جابہ جا پولیس اور ٹریفک پولیس کے ناکے شہری خوفزدہ رہنے لگے

کراچی (این این آئی) شہریوں نے کراچی میں پولیس اور ٹریفک اہلکاروں کی جانب سے جاری کھلے عام رشوت طلبی، بھتہ خوری اور ہراسانی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی ٹریفک، ایس ایس پی سٹی اور وزیر اعلیٰ سندھ سے فوری ایکشن کا مطالبہ کیا ہے۔نشتر روڈ، رنچھوڑ لائن کے ایم سی اسٹور ورکشاپ کے سامنے روزانہ کی بنیاد پر پولیس اہلکار اور ٹریفک سارجنٹس سڑکوں پر ناکے لگا کر رکشہ ڈرائیوروں، موٹر سائیکل سواروں اور عام شہریوں سے زبردستی پیسے بٹور رہے ہیں۔ تھانہ عیدگاہ کے ماتحت اہلکاروں پر الزام ہے کہ وہ ہیلمٹ، کاغذات، انجن نمبر، یا پرمٹ کے بہانے شہریوں کو روک کر ان سے ”چائے پانی“ کے نام پر بھتہ لیتے ہیں۔متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی رقم دینے سے انکار کرے تو ان کے ساتھ بدتمیزی، گاڑی بند کرنے کی دھمکیاں یا کاغذات پھاڑنے جیسا ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔ایک رکشہ ڈرائیور نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پورا دن محنت کرکے جو روزی کماتا ہوں، اس کا ایک حصہ زبردستی پولیس والوں کو دینا پڑتا ہے۔ انکار کی صورت میں گاڑی اٹھالی جاتی ہے، جھگڑا ہوتا ہے، اور آخرکار نوکری بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ اب صرف نشتر روڈ یا رنچھوڑ لائن تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے کراچی میں پولیس ناکے ”نذرانہ پوائنٹ” میں بدل چکے ہیں۔ایک موٹر سائیکل سوار کا کہنا تھاکہ ناکے نظر آتے ہی دل کانپنے لگتا ہے، کیونکہ پتہ ہے کہ کچھ نہ کچھ بہانہ بنا کر رقم نکلوائی جائے گی، چاہے آپ کے کاغذات مکمل ہی کیوں نہ ہوں۔عوامی حلقے حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ اتنی کھلی بدعنوانی کے باوجود پولیس افسران، وزرا اور ارکان اسمبلی روزانہ انہی سڑکوں سے گزرتے ہیں، مگر کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ خاموشی کسی اندرونی گٹھ جوڑ کی علامت ہے یا محض لاپروائی؟۔شہریوں نے متفقہ مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں تمام غیر ضروری پولیس ناکے فوری طور پر ختم کیے جائیں۔رشوت خوری میں ملوث اہلکاروں کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔شہریوں کے تحفظ کے لیے ہیلپ لائن اور واٹس ایپ پر فوری شکایت درج کرانے کا موثر نظام بنایا جائے۔ٹریفک اور پولیس نظام میں شفافیت کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کا نظام متعارف کروایا جائے۔شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال یونہی جاری رہی تو عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے نہایت خطرناک ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت فوری حرکت میں آئے، ورنہ اعتماد کا بحران حکومتی نظام کو کمزور کر دے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں