کوئٹ(رپورٹر)آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی کے صدر حاجی حبیب اللہ خان بادیزئی نے ڈیزل کی قیمت میں 33 روپے جبکہ پٹرول کی قیمت میں صرف 2 روپے کمی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کا سلسلہ عوام اور ٹرانسپورٹرز کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں شفاف اور مستقل پالیسی اختیار کرے تاکہ کاروباری طبقے، ٹرانسپورٹرز اور عوام کو بار بار کی قیمتوں میں تبدیلی سے پیدا ہونے والی مشکلات سے نجات مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیزل کی قیمت میں کمی بظاہر بڑا ریلیف نظر آتی ہے، مگر اس کے مقابلے میں پٹرول کی قیمت میں صرف دو روپے کمی عوام کے ساتھ مذاق ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا براہِ راست فائدہ عام آدمی اور ٹرانسپورٹرز تک پہنچنا چاہیے، کیونکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے یا کمی کا اثر کرایوں، اشیائے ضروریہ اور ہر شعبہ زندگی پر پڑتا ہے۔حاجی حبیب اللہ خان بادیزئی نے کہا کہ بلوچستان میں ٹرانسپورٹرز پہلے ہی طویل فاصلے، خراب سڑکوں، اضافی چیک پوسٹوں، ٹیکسز اور دیگر مسائل کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال نے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو مزید متاثر کیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ٹرانسپورٹرز کو اعتماد میں لے کر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے واضح اور قابلِ عمل پالیسی بنائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حقیقی معنوں میں کمی کی جائے، پٹرولیم مصنوعات پر عائد اضافی بوجھ کم کیا جائے اور ٹرانسپورٹرز کو ریلیف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ٹرانسپورٹرز کے تحفظات دور نہ کیے تو آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے پر مجبور ہوگی۔

