رسول بخش رئیس
یہ آج کی بات نہیں‘ بلکہ کئی عشروں سے طرزِ حکومت کی بگڑی ہوئی صورتحال نجی محفلوں میں کھسر پھسر سے لے کر حاکموں کی محفلوں اور بے شمار کانفرنسوں اور سیمیناروں میں زیرِ بحث رہتی ہے۔ ہر آنے والے دور میں سرفہرست مسئلہ اندازِ حاکمیت کا رہا ہے۔ کسی عام آدمی سے پوچھیں‘ شہری ہو یا دیہاتی‘ زمیندار ہو یا کاشتکار‘ یہاں تک کہ بڑا بزنس مین ہو یا سیاستدان‘ سب آپ کو بتائیں گے کہ سفارش اور ہتھیلیوں کو گریس اور فائلوں کو پہیے لگائے بغیر جائز کام نہیں ہوتے۔ ایک مرتبہ پھر سے یہی موضوع زیرِ بحث ہے مگر افسوس ہوتا ہے کہ آخر وہ لوگ‘ جو اس وقت حکومتوں میں بیٹھے ہوئے ہیں‘ اس مسئلے کو حل کیوں نہیں کرتے؟
بات ذرا تلخ ہے مگر کرنا ضروری ہے۔ آپ کسی سرکاری ادارے کی بھرتیوں کی تاریخ اور شماریات اٹھا کر دیکھ لیں‘ حکومتی اداروں کے زوال کی کہانی جلی حروف میں آپ کے سامنے آ جائے گی۔ جس قومی ادارے نے کچھ کر کے دکھایا‘ جس نے ملک کیلئے کچھ کیا اور نام اور دولت کمائی‘ حکمرانوں کی نظریں اس پر جا پڑیں اور اقتدار سنبھالتے ہی اپنے بندے اس میں گھسانا شروع کر دیے۔ پہلے جمہوری دور میں قومی ہوائی کمپنی‘ واپڈا‘ نجی بینک‘ انشورنس کمپنیاں اور دیگر مالیاتی ادارے یوں سمجھیں کہ سونے کی چڑیا تھے۔ پارٹی کے جان نثار بھوکے بازوں کی طرح ان پر لپکے اور دو چار برسوں میں سب کچھ چٹ کر دیا۔ میں نے خود بااثر لوگوں کے قریبی رشتہ داروں کو ان اداروں کے علاوہ نیشنل بینک‘ سرکاری کارپوریشنوں اور دیگر سرکاری اداروں میں بڑی پوزیشنیں بغیر کسی میرٹ کے سنبھالتے دیکھا ہے۔ بات یہاں نہیں رکی۔ انہوں نے تو سروسز میں بھی بغیر مقابلے کے امتحان کے بھرتیاں کیں۔ اکثریت وزیروں‘ مشیروں اور اراکینِ اسمبلی کے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کی تھی۔ دیگر ادوار میں بھی جس کسی کو موقع ملا‘ اس نے دو قدم آگے بڑھ کر سرکاری اداروں پر قبضہ جما لیا۔ آج بھی کسی سرکاری دفتر میں جائیں تو آپ کو جہاں ایک دو آدمیوں کی ضرورت ہے وہاں دس‘ پندرہ لوگ فونوں پر نظریں گاڑے ملیں گے۔ سرکاری اداروں کی حالت کا اندازہ لگانا ہو تو‘ دعا کریں کہ آپ کو کسی بلڈنگ کا واش روم استعمال نہ کرنا پڑے۔
سیاسی بھرتیاں‘ یہاں تک کہ جامعات‘ سکولوں اور کالجوں میں پہلے ایڈہاک (عارضی) اور پھر یونین بازی کر کے سب کو بغیر کسی شفافیت اور میرٹ کے پکا کر دیا گیا۔ یہ تو ہمارا آنکھوں دیکھا حال ہے۔ جامعات میں تو حال اس سے بھی برا ہے۔ ہر جگہ‘ ہر دور میں سیاسیوں نے بھرتیاں کیں‘ اتنی کہ ہر شعبے میں سات آٹھ سے لے کر دس‘ پندرہ بندے بیکار بیٹھے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی گورننس کے بارے میں سوچے تو فیکلٹی اور سٹاف میں تناسب رکھا جاتا ہے۔ ایسے بے کار بیٹھے آدمیوں پر ایک لحاظ سے ترس آتا ہے کہ نوکری اور تنخواہ کے چکر میں ان کی پوری زندگیاں غیر پیداواری رہتی ہیں۔ کسی کا کسی کام میں جی نہیں لگتا۔ گورننس کے مسائل نہایت ہی سادہ ہیں‘ جو اختیارات کے غلط استعمال‘ جس کی کوئی جوابدہی نہیں‘ کی وجہ سے وقت کے ساتھ الجھتے چلے گئے ہیں۔ ہم اپنے قریبی پارک سے بات شروع کرتے ہیں۔ (آپ کا تجربہ مختلف ہو تو بھی ہمیں بتا سکتے ہیں) ڈیوٹی کا وقت تو آٹھ نو بجے شروع ہوتا ہے مگر آپ کو وہاں کوئی نظر نہیں آئے گا‘ بلکہ کسی دن اگر کچھ لوگ آتے بھی ہیں تو ایک دو گھنٹوں یا اس سے بھی کم وقت کے لیے‘ اور باقی وقت اپنے اپنے کاروباروں کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔ جب کوئی جوابدہی کا اصول نہیں ہوتا‘ اور اگر ہو بھی مگر اس پر عمل نہ کیا جائے تو گورننس بد سے بدتر ہوتی چلی جاتی ہے۔ دوسری بات‘ سرکاری اداروں میں خواہ مخواہ کی رکاوٹیں ہوتی ہیں‘ اور ان کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ شہریوں کو زچ کر کے ان سے کچھ بٹورا جائے۔ یہ باتیں میں سنی سنائی نہیں کر رہا‘ جن بیچارے لوگوں کو مختلف محکموں نے لوٹا ہے یہ ان کی داستانیں ہیں۔
سب سے بڑا مسئلہ گورننس کی تباہی ہے جس کی اصل بنیاد اور جڑ کرپشن ہے۔ ملکی تاریخ کا کوئی ورق اٹھا کر دیکھیں‘ یا ہر دور کا مطالعہ کریں‘ حتیٰ کہ اِس وقت بھی مختلف سرکاری اداروں میں روزانہ کی بنیاد پر سرگرمیوں کا جائزہ لیں تو گورننس کا اصلی مسئلہ سمجھ میں آ جائے گا۔ ظلم تو یہ ہے کہ ہر ادارے میں منظم انتظامی ڈھانچہ موجود ہے مگر جوابدہی اور احتساب کہیں بھی دیکھنے میں نہیں آتا۔ اگر اوپر سے لے کر نیچے تک پورے ادارے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہو تو حل آپ کہاں تلاش کریں گے! یہ چند مثالیں آپ کے سامنے اس لیے رکھی ہیں کہ سب لوگوں کا اتفاق ہے کہ سرکاری اداروں میں کرپشن ہے‘ بدانتظامی ہے اور احتساب نہیں‘ اور سب اسی بارے میں رو رہے ہیں۔ لیکن آپ کیا کریں گے جب کوئی صوبے یا ملک کا بااختیار حکمران چن چن کر مختلف اداروں میں ایسے خواتین و حضرات کو سربراہ بنائے جن کا مقصد صرف کمائی ہو اور ہر ایک کیلئے ٹارگٹ مقرر ہوں؟
آگے چلیں! اگر آپ اقتدار میں آ کر قوانین ہی بدل لیں اور ان کا اطلاق ماضی کی دہائیوں تک لے جائیں‘ اور عدالتوں و احتساب کے اداروں کو بھی بزورِ قانون پابند کر دیں کہ اب دروازے بند ہو چکے ہیں اور وہ ماضی کے اندر جھانک کر بھی نہیں دیکھ سکتے تو ایسے میں ملک کے مختلف شعبوں میں سرکاری اداروں کے اہلکاروں اور دیگر کیلئے کیا پیغام جائے گا؟ کہتے ہیں ہم نے مجوزہ اصلاحات کر لیں تو گورننس بہت اچھی ہو جائے گی۔ حضور! اصلاحات کرنی ہیں تو آج ہی سے شروع کر دیں کہ سب سرکاری افسر اور اہلکار اپنے دفتروں میں وقت پر آئیں‘ وقت پر جائیں‘ کسی کا جائز کام نہ روکے رکھیں اور نہ کسی کا ناجائز کام کریں۔
جو کام کرنے کے ہیں وہ تو سرکاری ملازمتوں‘ افسروں کی تعیناتیوں‘ اور ترقیاتی کاموں کے ٹھیکوں میں میرٹ اور شفافیت کے ساتھ ساتھ جواب دہی ہے۔ بے شک آپ جتنے صوبے بنانا چاہیں بنا کر دیکھ لیں‘ اور جس طرح کم از کم ہمارا مطالبہ ہے کہ صوبے بنائیں یا نہ بنائیں لیکن بااختیار مقامی حکومتیں تو ہر صورت میں ناگزیر ہیں۔ اصلاحات ضرور کریں مگر گورننس کسی صورت بہتر نہیں ہو گی اگر آپ میرٹ‘ شفافیت‘ قانون کی حکمرانی اور احتساب کیلئے تیار نہیں۔ ہر صورت میں اقتدار صرف 300سیاسی خاندانوں کے ہاتھوں میں ہی مرکوز رہے گا‘ اور وہ وہی کچھ گورننس کیلئے کرتے رہیں گے جو ابھی تک کرتے آئے ہیں۔ اگر عدالتوں میں انصاف اور احتساب بغیر کسی تفریق کے اور میرٹ پر ہو اور مقامی حکومتیں بااختیار ہوں تو پھر ہی حالات بہتری کی طرف جا سکتے ہیں۔ ہم جیسے لوگ تو ویسے ہی شکی مزاج ہیں‘ اس لیے جو مجوزہ اصلاحات کے خلاف بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہیں‘ ہم ان کے جھانسے میں آ جاتے ہیں۔ ہمارے یقین کی بنیاد اس لیے بھی کمزور ہے کہ ہم نے اقتدار میں موجود جماعتوں کو کئی بار کرسیاں سنبھالتے‘ موجیں اڑاتے اور ہارنے کے بعد اگلے سیزن کی تیاری کرتے دیکھا ہے۔ میرے خیال میں صوبوں کی تعداد موجودہ سے کم یا زیادہ ہونا اصل مسئلہ نہیں۔ اگر ایک بااختیار مقامی حکومت قائم ہوتو وہاں سے بھی نئی قیادتوں کے ابھرنے کے امکانات ہوتے ہیں۔ اس طرح سیاسی گھرانوں کی اجارہ داری آہستہ آہستہ ٹوٹ جائے گی۔ دوسری بات یہ کہ احتساب‘ مالی کرپشن اور انتظامی بدعنوانیوں کے خلاف جب تک انصاف اور شفافیت کے ساتھ عمل درآمد نہیں ہو گا‘ تب تک کچھ بھی نہیں بدلے گا۔ یہ سوچنا کہ محض مزید صوبے بنانے یا نئی انتظامی اکائیاں کھڑی کرنے سے طرزِ حاکمیت بہتر ہو جائے گی‘ دیوانے کا خواب معلوم ہوتا ہے۔ مسئلے کی جڑ تو گورننس ہے‘ بلاتخصیص احتساب و انصاف اور مقامی حکومتوں کی صورت میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی۔ مگر کون سیانا ایسا کرے گاکہ اُس کے اقتدار کی مرکزیت بھی ختم ہو‘ سیاست بھی ڈوب جائے اور اکٹھا کیا ہوا دھن بھی خطرے میں پڑ جائے۔
Load/Hide Comments

