سانچ: ’مہر شفقت اللہ مشتاق‘منصب سے آگے ایک درویش صفت انسان،انتظامی افسر، شاعر اور کچھ بہتر کرنے کی جستجو

تحریر: محمدمظہررشید چودھری (03336963372)

کچھ شخصیات سے ملاقات صرف رسمی ملاقات نہیں ہوتی بلکہ وقت گزرنے کے باوجود ان کی گفتگو، اندازِ فکر اور شخصیت کے بعض پہلو ذہن میں محفوظ رہتے ہیں۔ مہر شفقت اللہ مشتاق(صدارتی ایوارڈ برائے تمغہ حسن کارکردگی) بھی ان شخصیات میں شامل ہیں جن سے بطور صحافی اور اینکر پرسن میری متعدد ملاقاتیں رہیں۔ مختلف مواقع پر ان کے تفصیلی انٹرویوز کرنے کا موقع ملا، جبکہ لائیو ریڈیو پروگرام میں بھی وہ میرے ساتھ شریک ہوئے، جہاں بطور اینکر پرسن میں نے ان سے سرکاری ملازمت، انتظامی تجربات، شاعری اور زندگی کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔ ان ملاقاتوں نے مجھے ایک سرکاری افسر کے ساتھ ساتھ ایک شاعر، کالم نگار اور حساس انسان کو بھی قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔مہر شفقت اللہ مشتاق کا آبائی گاؤں حارث آباد ہے، جو پیرمحل سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر سندھیلیانوالہ روڈ پر واقع ہے۔ بڑے شہروں کی چمک دمک سے دور یہ مٹی، اپنے لوگوں اور اپنی روایات سے جڑی ہوئی جگہ ہے۔ شاید یہی پس منظر ان کی شخصیت میں موجود سادگی، درویشی اور عام آدمی کے مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت کی ایک وجہ بھی ہے۔راجن پور کا ذکر آئے تو میرے لیے یہ صرف پاکستان کے ایک ضلع کا نام نہیں بلکہ میری اپنی زندگی کی ایک ایسی یاد ہے جو آج بھی دل و دماغ پر نقش ہے۔ مجھے بچپن ہی میں راجن پور ضلع کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، جب میرے والد محترم چودھری عبدالرشید پاکستان ریلوے میں PWI کی حیثیت سے دورانِ ملازمت تحصیل جام پور میں تعینات ہوئے۔ جام پور میں قیام کے دوران ہی میرے والد محترم اچانک ہارٹ اٹیک کے باعث خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ہم بہن بھائیوں کے لیے وہ لمحہ آج بھی ایک ایسا صدمہ ہے جسے وقت کی گرد بھی دھندلا نہیں سکی۔ ایک باپ کا یوں اچانک دنیا سے رخصت ہو جانا بچوں کے لیے ایسا خلا چھوڑ جاتا ہے جسے زندگی بھر پْر نہیں کیا جا سکتا۔ شاید اسی لیے جب بعد کے برسوں میں مہر شفقت اللہ مشتاق کو ڈپٹی کمشنر راجن پور کی حیثیت سے دیکھا تو راجن پور سے میری اپنی جذباتی وابستگی نے ان کی انتظامی ذمہ داریوں کو ایک مختلف احساس کے ساتھ دیکھنے پر مجبور کیا۔مہر شفقت اللہ مشتاق نے پنجاب کی سول سروس میں مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دیں اور وقت کے ساتھ انتظامی امور میں اپنا مقام بنایا۔ ان کے کیریئر میں 2019 کے دوران اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ساہیوال میں ریجنل ڈائریکٹر کی ذمہ داری بھی شامل رہی۔ اس عرصے میں کرپشن کے خلاف کارروائیوں اور عوامی شعور اجاگر کرنے کے حوالے سے ان کا نام سامنے آتا رہا۔ بعد ازاں انہوں نے ضلعی انتظامیہ میں اہم ذمہ داریاں سنبھالیں اورڈپٹی کمشنر بہاولنگر کے منصب پر بھی خدمات انجام دیں۔ان کی انتظامی زندگی کا ایک اہم مرحلہ اگست 2024 میں ڈپٹی کمشنر راجن پور کی حیثیت سے تعیناتی تھی۔ راجن پور جیسے جغرافیائی اور انتظامی اعتبار سے حساس ضلع میں ڈپٹی کمشنر کی ذمہ داری آسان نہیں۔ یہاں سیلاب، دریائے سندھ کی صورتحال، دور دراز علاقوں کے مسائل، زراعت اور عوامی سہولیات سمیت انتظامیہ کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہتا ہے۔2025 کے سیلاب کے دوران بھی ڈپٹی کمشنر راجن پور کی حیثیت سے مہر شفقت اللہ مشتاق کی سرگرمیاں نمایاں رہیں۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں اور ریلیف کیمپوں کا دورہ کیا، متاثرین کے لیے خوراک، صاف پانی، ادویات اور دیگر سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس دور میں انتظامی افسر کے لیے سب سے بڑا امتحان یہی ہوتا ہے کہ سرکاری احکامات کو عملی شکل دیتے ہوئے متاثرہ لوگوں تک فوری ریلیف پہنچایا جائے۔ان کی انتظامی خدمات کا ایک اہم باب بورڈ آف ریونیو پنجاب بھی ہے۔ 2022 میں وہ ریونیو اور ٹیکسز سے متعلق ذمہ داریوں میں نمایاں رہے، جبکہ 2023 میں پنجاب کے لینڈ ریکارڈ اور ریونیو اصلاحات سے متعلق اہم اجلاسوں میں ان کی شرکت رہی۔ اسی عرصے میں ان کی گریڈ 19 میں ترقی ہوئی۔ بعد ازاں وہ سیکرٹری بورڈ آف ریونیو پنجاب کے اہم منصب پر فائز ہوئے۔ 2026 میں بھی ریونیو، اراضی ریکارڈ اور کمپیوٹرائزیشن کے معاملات میں سیکرٹری بورڈ آف ریونیو کی حیثیت سے ان کی سرگرمیاں رپورٹ ہوتی رہیں،لیکن مہر شفقت اللہ مشتاق کو صرف سرکاری عہدوں اور انتظامی ذمہ داریوں کی فہرست سے سمجھنا شاید ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ ان کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو ادب سے وابستگی ہے۔ وہ شاعر بھی ہیں اور کالم نگاری بھی کرتے ہیں۔ میری ان سے ہونے والی گفتگو میں کئی مرتبہ محسوس ہوا کہ سرکاری افسر کے اندر ایک حساس اور سوچنے والا انسان بھی موجود ہے۔ ملازمت کے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے ان کی زبان انتظامی ہوتی ہے، لیکن جب شاعری اور انسانی زندگی کی بات آتی ہے تو ان کے لہجے میں ایک الگ کیفیت محسوس ہوتی ہے۔سانچ کے قارئین کرام!مجھے 2020 کا وہ موقع بھی یاد ہے جب ان کی والدہ ماجدہ 78 برس کی عمر میں وفات پا گئیں۔ میں ان سے تعزیت کے لیے گیا تو انہیں انتہائی غمزدہ پایا۔ ماں کی جدائی کا دکھ ویسے بھی ایسا دکھ ہے جس کے سامنے بڑے سے بڑا منصب بے معنی محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس موقع پر میں نے انہیں ایک ایسے بیٹے کے طور پر دیکھا جو اپنی والدہ کی جدائی کے صدمے میں دل گرفتہ تھا۔ ان کے چہرے اور گفتگو سے دکھ واضح تھا، مگر اسی کیفیت میں بھی ان کی شخصیت میں ایک عجیب سی درویشی اور زندگی کو سمجھنے کی جستجو محسوس ہوتی تھی۔وہ ملاقات میرے لیے اس لحاظ سے بھی اہم تھی کہ وہاں سرکاری عہدہ، پروٹوکول اور انتظامی اختیار سب پیچھے رہ گئے تھے۔ سامنے صرف ایک غم زدہ بیٹا تھا۔ اسی موقع پر مجھے ان کے اندر موجود اس انسان کو دیکھنے کا موقع ملا جو کچھ بہتر کرنے کی خواہش رکھتا ہے، زندگی کے دکھوں کو محسوس کرتا ہے اور پھر بھی اپنے سفر کو جاری رکھنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔بطور اینکر پرسن ان کے ساتھ ہونے والی میری متعدد ملاقاتوں اور انٹرویوز میں ان کی شخصیت کا یہی امتزاج سامنے آیا۔ ایک طرف انتظامی افسر، دوسری طرف شاعر، ایک طرف سرکاری ذمہ داریوں کا بوجھ، دوسری طرف کالم اور ادب کے ذریعے اظہار، ایک طرف عہدے اور اختیارات، دوسری طرف ایک درویش صفت انسان جو زندگی کو محض منصب کی نظر سے نہیں دیکھتا۔آج مہر شفقت اللہ مشتاق کی شخصیت ایک ایسے مرحلے پر کھڑی ہے جہاں ان کے انتظامی تجربات، ادبی ذوق اور عوامی معاملات سے وابستگی ایک ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ ان کی سروس میں اینٹی کرپشن ساہیوال سے لے کر ڈپٹی کمشنر بہاولنگر، ڈپٹی کمشنر راجن پور اور بورڈ آف ریونیو پنجاب کی اہم ذمہ داریوں تک کئی مراحل آئے۔ عہدے بدلتے رہے، ذمہ داریاں تبدیل ہوتی رہیں، مگر قلم سے رشتہ قائم رہا۔میرے نزدیک کسی بھی سرکاری افسر کی اصل پہچان صرف اس کا عہدہ نہیں بلکہ اس کا انسانوں کے ساتھ رویہ، مشکل وقت میں اس کا کردار اور معاشرے کے لیے کچھ بہتر کرنے کی جستجو ہے۔ مہر شفقت اللہ مشتاق سے ہونے والی میری ملاقاتوں نے مجھے ان کی شخصیت کا یہی پہلو دکھایا۔حارث آباد کی سادہ مٹی سے نکل کر پنجاب کی اعلیٰ انتظامی ذمہ داریوں تک پہنچنے والے اس افسر کی داستان میں سرکاری عہدے ضرور ہیں، مگر اس داستان کا سب سے خوبصورت باب شاید وہی ہے جس میں ایک حساس انسان، ایک شاعر، ایک کالم نگار اور ایک درویش صفت شخصیت اپنے اندر کچھ بہتر کرنے کی جستجو لیے زندگی کا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہی پہلو انہیں محض ایک افسر نہیں بلکہ ایک مکمل انسان کے طور پر یاد رکھنے کے قابل بناتا ہے٭

اپنا تبصرہ بھیجیں