ڈاکٹر رشید احمد خاں
اپنی مرضی کا معاہدہ حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو زیر کرنے کے لیے ایک نئی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت‘ ٹرمپ کے اپنے الفاظ کے مطابق‘ ایران پر ایسی معاشی اور تجارتی پابندیاں عائد کی جائیں گی کہ اس سے پہلے دنیا نے دیکھی نہیں ہوں گی اور ان کا مقصد ایران کے اندر ایسے حالات پیدا کرنا ہے جن سے تنگ آ کر ایرانی عوام موجودہ حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ یعنی رجیم چینج! جس کے لیے امریکہ اور اسرائیل نے مل کر رواں برس 28فروری سے 8اپریل تک ایران کے طول و عرض میں طیاروں‘ بحری جہازوں‘ آبدوزوں کے ذریعے لگاتار بم‘ میزائل اور ڈرون گرائے۔ مگر آخرکار مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پڑا۔ ان مذاکرات‘ جن میں پاکستان‘ قطر اور سعودی عرب نے اہم کردار ادا کیا‘ کے نتیجے میں ایک فریم ورک معاہدے پر اتفاق ہوا تھا جس پر 18 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ‘ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے الیکٹرانک دستخط کیے‘ لیکن اس فریم ورک معاہدے میں درج سفارشات پر عمل درآمد کرنے کے بجائے صدر ٹرمپ نے امریکی سینٹرل کمانڈ کو ایران کے مزید فوجی ٹھکانوں اور تنصیبات کو تباہ کرنے کا حکم دے دیا۔ جواب میں ایران نے بھی خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ جس سے ایران امریکہ جنگ نے ایک انتہائی خطرناک صورت اختیار کر لی۔ جسے مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے ایک دفعہ پھر پاکستان‘ سعودی عرب اور مصر کی کوششوں سے 28جون کو فریقین نے ایک دوسرے پر حملے بند کرنے اور بات چیت کے سلسلے کو دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا‘ مگر ایران نے کہا کہ بات چیت سے پہلے امریکہ کو ایم او یو کی شرائط پر عمل درآمد کرنا پڑے گا جن میں امریکہ کی طرف سے ایران کی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ‘ بین الاقوامی منڈی میں ایرانی تیل اور گیس کی فروخت پر پابندی کو اٹھانا اور ایران کے منجمد اثاثوں کو واپس ایران کے حوالے کرنا شامل ہے۔ مگر امریکہ نے 12جولائی کو ایران کے جنوبی حصے اور خلیج فارس کے ساحل پر واقع ایرانی دفاعی تنصیبات کو ہوائی اور بحری حملوں کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ امریکہ کی طرف سے ایران پر حملوں کا یہ تیسرا سلسلہ تھا اور اس دفعہ حملوں کا یہ سلسلہ تقریباً دو ہفتوں تک جاری رہا۔ صدر ٹرمپ کے مشیروں اور کابینہ کے سینئر ارکان نے جب انکشاف کیا کہ ایران کے خلاف طویل عرصے سے بمباری کے نتیجے میں امریکہ کے اسلحہ خانوں میں میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کی کمی ہو گئی ہے تو امریکی صدر نے نہ صرف سینٹ کام کو حملے روکنے کا حکم دیا بلکہ اعلان کیا کہ امریکہ اب ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے بجائے معاشی جنگ شروع کرے گا۔
مبصرین کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف امریکی حکمت عملی میں یہ تبدیلی نہ صرف امریکی جنگی صلاحیت پر پڑنے والے دباؤ اور ایران کی طرف سے بے مثال مزاحمت کا نتیجہ ہے بلکہ اس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی طرف سے ٹرمپ کو ایران پر اقتصادی پابندیوں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ ڈالنے کے منصوبے کا بھی کردار ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران میں رجیم چینج کے مقصد کو برقرار رکھنے پر آمادہ کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ اس کو حاصل کرنے کے لیے فوجی طاقت کے بجائے معاشی دباؤ سے کام لیا جائے کیونکہ ایران کی معیشت پہلے ہی کمزور حالت میں ہے۔ دہائیوں سے نہ صرف امریکہ بلکہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی طرف سے ایران پر کئی قسم کی اقتصادی پابندیوں نے نہ صرف ایران کی کرنسی کو ڈالر کے مقابلے میں انتہائی کمزور کر دیا ہے بلکہ افراطِ زر آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہے اور بیروزگاری عام ہے۔ اس کے ساتھ کئی ماہ کی لگاتار بمباری نے ایران کے نہ صرف فوجی بلکہ سویلین انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے جس کی وجہ سے ایرانی عوام سخت مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں ان حالات کی بنا پر ایران کے عوام میں پائی جانے والی پریشانی اور تشویش کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ ایرانی اعلیٰ حکام کی طرف سے ایران کے عوام کو اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھنے اور دشمن کی طرف سے ان میں نفاق ڈالنے کی کوششوں سے خبردار رہنے پر زور ظاہر کرتا ہے کہ ایران کی حکومت معاشی صورتحال کے بگڑنے کے خطرے سے آگاہ ہے اور وہ ایرانی عوام کو ان مشکلات کا سامنا کرنے کیلئے تیار کر رہی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کو یقین ہے کہ معاشی صورتحال کی مزید خرابی سے ایرانی عوام میں موجودہ حکومت کے خلاف جذبات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور انہیں توقع ہے کہ مہنگائی‘ بیروزگاری اور ضروری اشیا مثلاً دوائیوں کی قلت سے تنگ آ کر ایرانی عوام موجودہ حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ مگر اس کے برعکس بعض حلقوں میں یہ رائے بھی پائی جاتی ہے کہ جس طرح طاقت کے استعمال سے ایرانی عوام کو نہیں جھکایا جا سکا‘ اسی طرح اقتصادی پابندیوں کا گھیرا تنگ کر کے بھی امریکی ایران کو ہاتھ کھڑا کرنے پر مجبور نہیں کر سکیں گے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اقتصادی پابندیاں اتنے طویل عرصے سے ایران پر عائد ہیں کہ وہ اس کے عادی ہو چکے ہیں اور اب انہوں نے ان پابندیوں کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا کیا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ عراق‘ لیبیا اور غزہ کی صورتحال ان کے سامنے ہے‘ اسے قبول کرنے کے بجائے وہ بھوک اور قلت کا سامنا کرنے کو ترجیح دیں گے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری جنگ اور عسکری کشیدگی میں امریکہ کی اپنے اہداف کے حصول میں ناکامی نے ایرانی عوام کے حوصلے بلند کر دیے ہیں اور ایران کا موجودہ سیاسی سیٹ اَپ پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ اور اس سے پہلے لیگ آف نیشنز کے تجربات سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی ملک کو محض اقتصادی پابندیوں سے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ یہ درست ہے کہ اقتصادی اور دیگر پابندیوں سے ٹارگٹ ملکوں کو متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر اقتصادی پابندیوں کے اثرات سے بچ نکلنے کے بھی کئی طریقے ہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایران نے اقتصادی پابندیوں کا ایک طویل عرصے سے سامنا کرتے ہوئے یہ طریقے نہ سیکھے ہوں۔ اس لیے صدر ٹرمپ اپنے دعوؤں کے باوجود اقتصادی پابندیوں کا دباؤ بڑھا کر ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکتے کیونکہ اقتصادی پابندیوں کے سسٹم کو مکمل طور پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ ایران کے ہمسائے میں کتنے ملک ایسے ہیں جو ایران کے ساتھ مکمل طور پر تجارتی تعلقات اور مالی لین دین منقطع نہیں کریں گے۔ ایران کو اپنی معیشت کو زندہ رکھنے کے لیے کئی آپشن دستیاب ہیں۔ جلد یا بدیر صدر ٹرمپ کو معاشی دباؤ کا حربہ ترک کر کے کوئی دوسرا آپشن اختیار کرنا پڑے گا۔ جنگ کا آپشن تو اب خارج از امکان ہے کیونکہ اس کے استعمال سے صدر ٹرمپ کی اپنے ملک کے اندر ریٹنگ مزید گر جائے گی۔ اگر اپنی باقی ماندہ دو سالہ صدارتی مدت میں صدر ٹرمپ کے ذہن میں ایران کے ساتھ مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کا خیال آیا تو اب ان کے سامنے مذاکرات کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں ہو گا۔
Load/Hide Comments

