پنجگور( پریس ریلیز ) پنجگور میں عالمی یومِ ماں کا دودھ کی مناسبت سے بچوں کی غذائیت، اسٹنٹنگ کی روک تھام اور ماں کے دودھ کی اہمیت کے حوالے سے ایک آگاہی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام کا اہتمام یونیسیف کے باہمی تعاون سے کیا گیا، جس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔پروگرام میں محکمہ صحت، غذائیت، عالمی و غیر سرکاری اداروں کے نمائندگان، اساتذہ، طبی عملے اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کے مہمان خاص ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر پنجگور ڈاکٹر عابد علی ریکی تھے ۔جبکہ منعقدہ سیمینار سے ڈسٹرکٹ نیوٹریشن کوآرڈینیٹر نظام الرحمٰن نے اس دن کے مناسبت سے تفصیلی آگاہی فراہم کی۔سیمینار میں بی ائی ایس پی کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر مشتاق بشیر، 50 بڈڈ ہسپتال خدابادان پنجگور سے بی ائی ایس پی کی ایف سی کوآرڈینیٹر شیرین افضل، نیوٹریشن آفیسر شہناز قدوس ۔ ٹی ایچ کیو ہسپتال چتکان سے سی ایم ڈبلیو نادیہ نذیر نے۔ مفتی آصف، محترمہ فرزانہ ہاشم، پروفیسر رحیم۔ برکت مری، پی پی ایچ ائی کے شاہ مرید، ڈبلیو ایچ او کے ظہیر احمد اور نجم حنیف سمیت دیگر معزز شخصیات شریک تھے ۔سیمینار سے عیسئی کالج کی لیکچرار زولوجی محترمہ مریم عزیز نے ماں کے دودھ کی اہمیت کے حوالے سے خصوصی آگاہی سیشن دیا، جبکہ گرمکان او ٹی پی سائٹ عیسئی سے محترمہ عالیہ اور محترمہ روزینہ شاہ نے بھی بچوں کی غذائیت اور صحت کے حوالے سے شرکاء کو آگاہی فراہم کی۔۔سیمنار سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر پنجگور ڈاکٹر عابد علی ریکی۔ ڈسٹرکٹ نیوٹریشن کوآرڈینیٹر نظام الرحمٰن ودیگر مقررین نے اس دن کے مناسبت کے حوالے سے منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی صحت مند نشوونما، مضبوط قوتِ مدافعت اور مستقبل میں مختلف بیماریوں سے تحفظ کے لیے ابتدائی عمر میں مناسب غذائیت انتہائی ضروری ہے۔ غذائی قلت کے باعث بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں اسٹنٹنگ جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ماں کا دودھ بچے کے لیے قدرت کا بہترین، مکمل اور محفوظ تحفہ ہے، جس کا کوئی حقیقی نعم البدل نہیں۔ بچے کو پیدائش کے پہلے گھنٹے کے اندر ماں کا دودھ پلانے کا آغاز کیا جائے، جبکہ ابتدائی چھ ماہ تک بچے کو صرف ماں کا دودھ دیا جائے اور اس دوران پانی یا دیگر غیر ضروری غذائیں دینے سے گریز کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ چھ ماہ کے بعد بچے کو عمر کے مطابق مناسب، نرم اور غذائیت سے بھرپور اضافی غذا دینا شروع کی جائے، تاہم ماں کا دودھ دو سال یا اس سے زائد عرصے تک جاری رکھنا چاہیے۔ اس عمل سے بچے کی قوتِ مدافعت بہتر ہوتی ہے اور مختلف بیماریوں کے خلاف اس کا قدرتی دفاع مضبوط ہوتا ہے۔مقررین نے کہا کہ معاشرے میں مصنوعی دودھ کے بڑھتے ہوئے استعمال اور بریسٹ فیڈنگ سے متعلق بعض غلط تصورات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ماؤں اور خاندانوں کو یہ شعور دینا ضروری ہے کہ جہاں طبی طور پر ممکن ہو، ماں کے دودھ کو اولین ترجیح دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بریسٹ فیڈنگ صرف بچے کے لیے ہی فائدہ مند نہیں بلکہ ماں کی صحت کے لیے بھی اہم ہے۔ دودھ پلانے والی ماں کی اپنی غذائیت کا بھی خصوصی خیال رکھنا چاہیے۔ ایک صحت مند ماں ہی اپنے بچے کو بہتر طریقے سے دودھ پلا سکتی ہے، اس لیے ماں کو متوازن اور متنوع خوراک فراہم کرنا ضروری ہے۔انھوں نے کہا کہ ماں کا دودھ پلانا طبی اعتبار کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات میں بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ قرآنِ پاک میں بھی بچوں کو دودھ پلانے کے حوالے سے واضح رہنمائی موجود ہے، اس لیے اس قدرتی اور اہم عمل کو معاشرتی سطح پر فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔آخر میں اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجگور میں بچوں کی غذائیت بہتر بنانے، اسٹنٹنگ کی روک تھام، ماؤں کو متوازن غذا کی اہمیت سے آگاہ کرنے اور بریسٹ فیڈنگ کے فروغ کے لیے آگاہی پروگراموں کا سلسلہ مزید مؤثر انداز میں جاری رکھا جائے گا۔کیونکہ صحت مند بچے ہی صحت مند معاشرے اور مضبوط مستقبل کی بنیاد ہیں، اس لیے ہر ماں، ہر خاندان اور معاشرے کے ہر فرد کو بچوں کی بہتر غذائیت اور ماں کے دودھ کی اہمیت کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

