پاکستان اورافغانستان میں پھنسے ہوئے ہزاروں افراد کو آنے اور جانے کی اجازت دی جائے، عبدالستارشاہ چشتی

کوئٹہ(این این آئی) جمعیت علمااسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی ترجمان سیدحاجی عبدالستارشاہ چشتی نے صدرمملکت،وزیراعظم پاکستان،چیف آف آرمی اسٹاف اورمقتدرقوتوں وارباب اختیارواقتدارسے مطالبہ کیاہے کہ پاک افغان باڈربولدک پرپاکستان سے حکام کے اپرول پرافغانستان جانے اورافغانستان سے علاج کیلئے پاکستان آنے والی خواتین بوڑھے تمام افرادکوعرصہ مازل گلی کے دونوں اطراف موجودافرادکوانسانی ہمدردی کی بنیادپراس شدیدقیامت خیزگرمی میں موجودافرادکوفوری طورپرآنے جانے کی اجازت واقدام کامطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ تعجب کی بات ہے کہ ایران یادیگرممالک میں حالات خراب ہونے کی صورت میں پھنسے ہوئے افرادکولانے کیلئے سفارتی طورپرفوری اقدامات کیئے جاتے ہیں لیکن عرصہ درازسے پاکستانی وافغانی شہری خواتین بچے جوا پنے رشتہ داروں سسرال ملنے آئے یاگئے یاوہ افرادجوان حکومت کے اپرول پرائیوگئے شدیدگرمی نامساعدحالات میں دونوں جانب اپنے ممالک جانے وآنے کیلئے بہت بڑی تعدادمیں موجودہے نکواآنے جانے نہ دیناافسوسناک وقابل افسوس ہے انہوں نے کہاکہ دوممالک کو فوری طورسرحدپرموجودافرادکے آنے جانے کیلئے فی الفور اقدامات کئے جائیں انہوں نے کہاکہ عیدکے موقع پرکئی افرادشدیدگرمی سے بہوش ہوگئے اوراب بڑی تعدادمیں خواتین بچے افرادموجودہے انکی آنے جانے کیلئے انسانی بنیادوں پراقدامات کرکے ان ہزاروں خاندانوں کوپریشانیوں سے نجات دلائی جائے انہوں نے کہاکہ افسوس اس بات پرکہ دونوں جانب باڈروں پرموجودخواتین بچے بوڑھے نہ دہشت گردنہ مجرم بلکہ اس ملک کے ہی باسی وباشندے جوان سرحدات پرموجوداپنے رشتہ داروں سے ان ہی حکومتوں کی اجازت واپرول پرگئے یاپاکستان آئے اب پرآنے کے دروازے بندکرناقابل مذمت ہے اوروہ باڈروں پرعرصہ سے موجودشدیدپریشانیوں مشکلات سے دوچارہے جمعیت نظریاتی پاکستان کے مرکزی سکرٹری اطلاعات وترجمان نے وفاقی صوبائی حکومتوں باالخصوص چیف آف آرمی سٹاف سے مطالبہ کیا ہے کہ ان بے چارے مجبور مسافروں کے آنے جانے کا خصوصی نوٹس لیکر مازل گلی پر حکومتی اپرول پر آنے جانے والے مسافروں کیلئے بلا تاخیر اقدامات اٹھائے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں