سیوی(رپورٹر)بلوچستان میڈیا فورم کی کال پر یوم شہداء صحافت کے موقع پر کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں یوم سیاہ منایا گیا جبکہ شہداء صحافت کی روح کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی کا اہتمام بھی کیا گیا اس موقع پر صحافیوں سوشل میڈیا ایکٹوسٹس اور میڈیا سے وابستہ کارکنوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں، جبکہ پریس کلبز کی عمارتوں اور مختلف صحافتی دفاتر پر سیاہ پرچم لہرائے گئے کوئٹہ میں بلوچستان میڈیا فورم کے مرکزی صدر قیوم بلوچ، سبی میں سیکرٹری جنرل اللہ داد رند، نائب صدر ندیم بابر مغل، بھاگ میں مرکزی نائب صدر رمضان بھٹو، ایڈیشنل سیکرٹری امداد حسین، ڈویژنل صدر سبی گووندا راہیجہ، بختیار آباد میں مرکزی سینئر نائب صدر اللہ یار ڈومکی، شریف جمالی، اسد اللہ عمرانی، ڈاکٹر رضا بابئی، شیخ فرید اللہ اور دیگر نے یوم سیاہ منانے والے صحافیوں، سوشل میڈیا ایکٹوسٹس اور میڈیا کارکنوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء صحافت نے سچ، حق اور آزادیٔ اظہار کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ان کی قربانیاں صحافتی تاریخ کا روشن باب ہیں انہوں نے کہا کہ صحافت ایک مقدس ذمہ داری ہے اور صحافی معاشرے میں حقائق عوام تک پہنچانے اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ بلوچستان میں صحافیوں نے نامساعد حالات، دھمکیوں اور مشکلات کے باوجود اپنے فرائض انجام دیے اور عوام کی آواز بنے۔ انھوں نے کہا کہ یوم شہداء صحافت منانے کا مقصد صرف شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنا نہیں بلکہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دینا بھی ہے کہ آزادیٔ صحافت، آزادیٔ اظہار اور حقِ معلومات کے تحفظ کیلئے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ صحافیوں کو درپیش مشکلات، عدم تحفظ اور پیشہ ورانہ مسائل کے حل کیلئے تمام صحافتی تنظیموں کو متحد ہوکر آواز بلند کرنا ہوگی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں، شہداء صحافت کے خاندانوں کی مناسب سرپرستی کی جائے اور صحافتی فرائض کی انجام دہی کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے صحافیوں کے واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرکے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میڈیا فورم صحافیوں کے حقوق، آزادیٔ صحافت اور آزادیٔ اظہار کے تحفظ کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا اور شہداء صحافت کی قربانیوں کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جائے گا۔

