کراچی (اسٹاف رپورٹر) جمعیت علمائے اسلام جموں و کشمیر سندھ و بلوچستان زون کراچی کے مختلف اضلاع اور ٹاؤنز کے عہدیداران کے اجلاس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے، کیونکہ حکومت اور عوام کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد ضروری ہے۔ مقررین نے کہا کہ موجودہ حالات میں ریاست اور پاکستان کے علماء کرام، مشائخ عظام، مفتیان کرام اور تمام سیاسی و مذہبی رہنماؤں کو امن و سلامتی، پاکستان و کشمیر کی بقا اور استحکام کے لیے بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔اجلاس سے مولانا عبدالوحید، مولانا رفیق میر، مولانا مفتی عزیز الرحمن دانش، مولانا الیاس خان، مولانا غازی واجد، مولانا حماد، مولانا مفتی احسان، مولانا حامد، قاری راجہ عرفان، شیریار، قاری عجائب یوسف، مولانا اسلم، قاری الیاس، قاری برہان الدین، مولانا فاروق، مولانا عثمان، مولانا منظور فقیری سمیت کراچی کے تمام اضلاع کے عہدیداران نے خطاب کیا۔مولانا عبدالوحید نے کہا کہ مولانا سعید یوسف ریاست کا خوبصورت چہرہ ہیں، جن کی دینی، سماجی، رفاہی اور سیاسی خدمات آزاد کشمیر، پاکستان اور عرب ممالک تک پھیلی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام جموں و کشمیر ریاست کی قدیم مذہبی، سیاسی، ملی اور تحریکی جماعت ہے، جس کے آزاد کشمیر میں امیر مولانا سعید یوسف خان جبکہ پاکستان میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان ہیں۔اجلاس کے شرکاء نے مولانا سعید یوسف خان کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے تمام ذمہ دار حلقوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے آزاد کشمیر اور حکومت کے درمیان معاہدے کے حوالے سے جمعیت علمائے اسلام جموں و کشمیر کے امیر مولانا سعید یوسف خان اور قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کی خدمات کو سراہا گیا۔مقررین نے کہا کہ ہمارا قلبی تعلق جس طرح کشمیر سے ہے، اسی طرح پاکستان سے بھی ہے۔ امیر محترم مولانا رفیق میر اور سرپرست مولانا عبدالوحید نے اجلاس میں غیر حاضر اراکین پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امیر کی اطاعت فرض ہے اور جماعتی کام کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کے خالق بھی ہم تھے اور ان کی حفاظت بھی ہم ہی کریں گے۔ اجلاس میں آزاد کشمیر میں حالیہ واقعات کے دوران شہید ہونے والے افراد کے ورثاء سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا گیا جبکہ شہداء کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی گئی۔

