تحریر:محمدمظہررشید چودھری (03336963372)
غریب اور متوسط طبقہ آخر کب تک مہنگائی کا بوجھ اٹھائے گا؟
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ محض توانائی کے شعبے کا مسئلہ نہیں رہتا۔ اس کے اثرات معیشت کے تقریباً ہر شعبے اور بالخصوص عام شہری کی روزمرہ زندگی تک پہنچتے ہیں۔ پیٹرول اور ڈیزل مہنگے ہوں تو نقل و حمل کے اخراجات بڑھتے ہیں، ترسیل مہنگی ہوتی ہے اور بالآخر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ صارف کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال میں جب آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی قیمت بھی بڑھتی جائے تو سب سے زیادہ متاثر غریب اور متوسط طبقہ ہوتا ہے۔10 ستمبر 2026 (ڈیزل392.67فی لیٹر)(پٹرول367.75فی لیٹر)پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافوں نے ایک مرتبہ پھر عوامی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور اضافے کے اثرات صرف ان افراد تک محدود نہیں رہتے جو اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں، بلکہ اس کا دائرہ مزدور، دیہاڑی دار، تنخواہ دار طبقے اور عام گھریلو صارف تک پھیل جاتا ہے۔ حالیہ قیمتوں میں اضافے کی اطلاعات نے بھی اس بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کو نمایاں کیا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ عام شہری کی آمدن اور اخراجات کے درمیان فرق مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک طرف تنخواہیں محدود ہیں اور دوسری طرف روزمرہ ضروریات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ بجلی، گیس، علاج، تعلیم، سفر اور خوراک کے اخراجات پہلے ہی گھریلو بجٹ کا بڑا حصہ لے جاتے ہیں۔ ایسے میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ایک نئے معاشی دباؤ کا آغاز بن جاتا ہے۔جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا جواز پیدا ہوتا ہے۔ مال بردار گاڑیوں کے اخراجات بڑھتے ہیں۔ منڈیوں تک سبزیاں، پھل، گندم اور دیگر اشیائے ضروریہ پہنچانے کا خرچ بڑھتا ہے۔ اس کے بعد یہی اضافی اخراجات تھوک فروش، دکاندار اور دیگر کاروباری حلقے صارف تک منتقل کرتے ہیں۔ یوں وہ شخص بھی پیٹرول کی قیمت بڑھنے کا بوجھ برداشت کرتا ہے جس کے پاس اپنی موٹر سائیکل یا گاڑی نہیں۔خصوصاً آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ایک حساس مسئلہ ہے، کیونکہ آٹا پاکستانی گھرانوں کی بنیادی ضرورت ہے۔ گوشت، پھل اور کئی دوسری اشیا شاید ایک کم آمدنی والا خاندان اپنی استطاعت کے مطابق کم کر دے، لیکن روٹی سے دستبردار ہونا ممکن نہیں۔ آٹے کی قیمت میں اضافہ براہ راست ہر گھر کے دسترخوان کو متاثر کرتا ہے۔اخباری رپورٹس کے مطابق10ستمبر 2026 کو پنجاب میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں گندم کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافہ اور سپلائی کی رکاوٹیں شامل ہیں۔ سرکاری گندم کی قیمت 3,800 روپے فی من مقرر تھی، تاہم اوپن مارکیٹ میں یہ لاہور میں 4,750 روپے فی من تک فروخت ہو رہی تھی، جس سے آٹے کی لاگت براہ راست متاثر ہوئی۔ اس کے علاوہ، پنجاب سے آٹے اور گندم کی بین الصوبائی ترسیل میں رکاوٹوں نے مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کی، جس کے نتیجے میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2,200 سے 2,400 روپے تک پہنچ گئی۔ فلور ملز نے بھی گندم کے ذخیرے میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ کیاہے۔سانچ کے قارئین کرام!ایک دیہاڑی دار مزدور کے لیے آٹے کا تھیلا صرف ایک خریداری نہیں بلکہ پورے ہفتے یا مہینے کے بجٹ کا مسئلہ ہوتا ہے۔ اسے یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ بچوں کے لیے بہتر خوراک خریدے، گھر کا بل ادا کرے، علاج کرائے یا سفر کے اخراجات پورے کرے۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جسے معاشی پالیسیوں کی تشکیل کے وقت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔متوسط طبقہ شاید سب سے زیادہ خاموشی سے مہنگائی کا بوجھ برداشت کر رہا ہے۔ سرکاری اور نجی ملازمین، چھوٹے کاروباری افراد اور محدود آمدن رکھنے والے خاندان نہ تو مکمل طور پر امدادی نظام میں شامل ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کی آمدن اتنی ہوتی ہے کہ وہ بڑھتی قیمتوں کو آسانی سے برداشت کر سکیں۔ایک متوسط طبقے کے ملازم کا بجٹ دیکھیں تو مسئلے کی سنگینی واضح ہو جاتی ہے۔ گھر کا کرایہ یا قسط، بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بل، علاج، سفر اور خوراک۔ اگر انہی اخراجات میں پیٹرول مہنگا ہو جائے اور آٹے سمیت دیگر بنیادی اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں تو بچت کا تصور تقریباً ختم ہو جاتا ہے۔یہ صورتحال صرف مالی مشکلات پیدا نہیں کرتی بلکہ اس کے معاشرتی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ مسلسل معاشی دباؤ گھرانوں میں بے چینی، مستقبل کے حوالے سے عدم تحفظ اور معیار زندگی میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ جو خاندان پہلے بچوں کی بہتر تعلیم، علاج اور مستقبل کے لیے بچت کر سکتا تھا، وہ اب ماہانہ ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ایک حقیقت ہے اور بعض شعبوں میں اس کے باعث اخراجات بڑھنا بھی ناگزیر ہو سکتا ہے، لیکن اس اضافے کو ہر چیز کی قیمت من مانی حد تک بڑھانے کا جواز نہیں بننا چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ ایندھن کی قیمت بڑھتے ہی بعض عناصر فوری طور پر اشیائے ضروریہ کے نرخ بڑھا دیتے ہیں، لیکن اگر ایندھن کی قیمت کم ہو تو اشیا کی قیمتیں اسی رفتار سے کم نہیں ہوتیں۔پرائس کنٹرول کمیٹیاں، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری صرف نرخ نامے جاری کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ بازار میں ان پر عمل ہو۔ آٹا، گندم اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کی وجوہات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائی محض نمائشی نہ ہو بلکہ ایسی ہو جس کے نتائج عام شہری کو بازار میں محسوس ہوں۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اگر عالمی اور ملکی معاشی عوامل سے متاثر ہوتی ہیں تو حکومت کی ذمہ داری صرف نئی قیمتوں کا اعلان کرنا نہیں بلکہ عام شہری پر ان کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا بھی ہے۔ سستی اور معیاری پبلک ٹرانسپورٹ، بنیادی اشیائے خورونوش کی مؤثر نگرانی، گندم اور آٹے کی مستحکم رسد اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے عملی ریلیف ایسے اقدامات ہیں جن پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔ انہیں صرف یہ نہ بتایا جائے کہ قیمتیں کیوں بڑھیں بلکہ یہ بھی واضح کیا جائے کہ حکومت مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کیا کر رہی ہے۔آج عام شہری کا بنیادی سوال سادہ ہے، جب آمدن میں اضافہ نہیں ہو رہا تو اخراجات میں مسلسل اضافہ کب تک برداشت کیا جائے؟ریاستی پالیسیوں کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ ایک عام شہری بنیادی ضروریات کتنی آسانی سے پوری کر سکتا ہے۔ اگر پیٹرول مہنگا ہو، آٹا مہنگا ہو، سفر مہنگا ہو اور بجلی و گیس کے اخراجات بھی مسلسل بڑھتے رہیں تو معاشی ترقی کے بڑے اعداد و شمار عام آدمی کے لیے اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ مہنگائی کے مسئلے کو صرف اقتصادی جدولوں میں نہیں بلکہ عام شہری کے باورچی خانے، اس کے سفر اور اس کے ماہانہ بجٹ کے تناظر میں دیکھا جائے۔غریب طبقہ پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے، جبکہ متوسط طبقہ بھی تیزی سے معاشی دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔ اگر بنیادی ضروریات خصوصاً آٹا عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا گیا اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا بوجھ بغیر کسی مؤثر ریلیف کے صارف پر منتقل ہوتا رہا تو اس کے معاشی اور سماجی نتائج مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔حکومت کو قیمتوں کے محض اعلان سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ناجائز منافع خوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، آٹے اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر حقیقی نگرانی، بہتر پبلک ٹرانسپورٹ اور غریب و متوسط طبقے کے لیے فوری اور مؤثر ریلیف ناگزیر ہے۔کیونکہ ایک ریاست کی اصل کامیابی بڑے منصوبوں سے ضرور ناپی جا سکتی ہے، مگر اس کا سب سے اہم امتحان یہ ہے کہ کیا اس کے شہری اپنے بچوں کے لیے روٹی، علاج، تعلیم اور باعزت زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کر سکتے ہیں یا نہیں؟جب پیٹرول مہنگا ہو اور روٹی بھی، تو مسئلہ صرف مہنگائی نہیں رہتا، بلکہ عام آدمی کی زندگی اور اس کے مستقبل کا مسئلہ بن جاتا ہے٭

