لسبیلہ: فشریز کی پابندی کے باوجود جون-جولائی میں مچھلیوں کا غیر قانونی شکار جاری

لسبیلہ(بیوروچیف)محکمہ فشریز کے احکامات ہوا میں، جون-جولائی میں مچھلیوں کی نسل کشی جاری، گجہ وار نیٹ کا بے دریغ استعمال، لسبیلہ کے ساحلی علاقوں میں محکمہ فشریز کے جاری کردہ جون اور جولائی کے مچھلی کے شکار پر پابندی کے باوجود، بڑی دیدہ دلیری سے شکار جاری ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق کشتیاں سمندر میں کھلے عام شکار کر رہی ہیں اور گجہ وار نیٹ جیسے نقصان دہ طریقوں سے مچھلیوں کی نسل کشی کی جا رہی ہےعوامی حلقوں نے انکشاف کیا ہے کہ محکمہ فشریز مبینہ طور پر فی کشتی لاکھوں روپے وصول کر کے انہیں شکار کی اجازت دے رہا ہےجو کہ سراسر ماہی گیری کے ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔ اس عمل سے نہ صرف سمندری حیات کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ آنے والے وقت میں ماہی گیروں کا روزگار بھی خطرے میں پڑ سکتا ہےلسبیلہ کے عوامی و ماہی گیر حلقوں نے محکمہ فشریز کے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے غیر قانونی شکار اور بدعنوانی میں ملوث افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ماحولیاتی توازن برقرار رہے اور مچھلیوں کی نسلیں محفوظ رہ سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں