ایک ارب پتی شخص کے اس تاریخی جملے نے پوری دنیا کے نظام کے منہ پر طمانچہ مار دیا!
جنوبی سوڈان کے مشہور ارب پتی ‘لارنس لوال’ نے جب اپنی محنت اور دماغ سے بے پناہ دولت کمائی، تو اچانک حکومت حرکت میں آ گئی۔
حکام نے فوراً لارنس کے ‘ذرائع آمدن’ (Source of Income) کی سخت ت-حقیقات شروع کر دیں کہ اس کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا۔
لارنس نے ان ت-حقیقات پر کوئی شور نہیں مچایا، بلکہ خاموشی سے اپنی تمام دولت اور کاروبار سمیٹا اور ہمیشہ کے لیے کینیڈا منتقل ہو گیا۔
⚠️ جاتے جاتے ح-کومت کے منہ پر طمانچہ:
لیکن ملک چھوڑتے وقت اس نے میڈیا اور حکومت کو ایک ایسا پیغام دیا جس نے سب کی بولتی بند کر دی… لارنس نے اپنے پیغام میں لکھا:
جب میں جوبا شہر کے فٹ پاتھوں پر سوتا تھا، بارشوں میں رات بھر بھیگتا تھا، بھوکا پیاسا دن گزارتا تھا اور کچرے کے ڈھیر سے روٹی کے ٹکڑے نکال کر کھاتا تھا… تب حکومت کہاں تھی؟ اس وقت کسی ح-کام کو میرے ‘سورس آف غربت’ (Source of poverty) میں دلچسپی کیوں نہیں ہوئی؟ اور آج جب میں نے محنت سے پیسے کما لیے تو تم مجھ سے سورس آف انکم پوچھنے آ گئے؟”
یہ کڑوا سچ صرف لارنس کا نہیں، بلکہ ہر اس غریب کی کہانی ہے جسے برے وقت میں ریاست لاوارث چھوڑ دیتی ہے، لیکن کامیاب ہونے پر حصہ مانگنے پہنچ جاتی ہے۔

