کوئٹہ(این این آئی) گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل سے پاکستان میں تعینات جرمن سفیر انیا لیپل (Ina Lepel) نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ملاقات کی جس میں پاکستان اور جرمنی کے درمیان دوطرفہ تعلقات، خطے کی سیاسی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان مختلف جدید شعبوں میں باہمی تعاون اور تعلقات کو مزید فروغ دینے کے روشن امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی نے جدید ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی، فنی و تکنیکی تعلیم اور دیگر شعبوں میں نمایاں تجربہ اور مہارت حاصل کی ہے جن سے بلوچستان بھی استفادہ کر سکتا ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان میں ہائیر ایجوکیشن کے فروغ کیلئے جرمنی کے تعاون اور اسکے تعلیمی تجربات سے فائدہ اٹھانا انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبے میں معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی اور تکنیکی مہارتوں کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ نوجوانوں کیلئے روزگار کے بہتر مواقع کی خاطر پرائیویٹ سیکٹر کو مزید مستحکم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں جدید مہارتوں، ووکیشنل ٹریننگ اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ تعلیمی و تربیتی پروگرام اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے مختلف مواقعوں پر جرمن حکومت کی جانب سے فراہم کیے جانے والے تعاون اور امداد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے جرمن سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ بلوچستان میں بلیو اکانومی، فشریز، معدنیات اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں موجود سرمایہ کاری کے منافع مواقعوں سے استفادہ کریں۔ دونوں رہنماؤں نے ہائیر ایجوکیشن، ووکیشنل ٹریننگ، سولر انرجی اور دیگر جدید شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ جرمن سفیر انیا لیپل نے گورنر بلوچستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بلوچستان کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے جرمنی کے تعاون کو جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔ملاقات کے اختتام پر جرمن سفیر انیا لیپل اور دیگر معزز مہمانوں کے اعزاز میں گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ظہرانہ بھی دیا گیا۔ ملاقات میں اعزازی قونصل جنرل میر مراد بلوچ، میرجَم اریستا (Mirjam Arista)، پارلیمنٹرینز میر شعیب نوشیروانی، محمد خان لہڑی، برکت رند، زرک خان مندوخیل، رسک سیموئل (Risk Samuel)، صوبائی سیکرٹری ہاشم خان غلزئی اور ولی خان مندوخیل بھی شریک تھے۔

