جنرل اسمبلی اجلاس؛ برازیلی صدر کی اسرائیل پر تنقید؛ غزہ اور ایران کی حمایت کردی

برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں عالمی تنازعات پر سفارت کاری کو واحد راستہ قرار دیتے ہوئے سلامتی کونسل میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برازیلی صدر اناسیو لولا دا سلوا نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ اس وقت اپنی تاریخ کے انتہائی نازک مرحلے میں ہے اور سلامتی کونسل کی غیر فعالیت کے باعث عالمی ادارے کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ 2025 میں دوسری جنگ عظیم کے بعد مسلح تنازعات کی سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ ہوئی اور بڑھتی جغرافیائی کشیدگیاں علاقائی تنازعات کو عالمی جنگ میں تبدیل کر سکتی ہیں۔

غزہ کے بارے میں لولا نے اسرائیلی حکومت کی کارروائیوں پر شدید تنقید کی اور کہا کہ فلسطینیوں کو غزہ میں شدید انسانی نقصان کا سامنا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے حماس کے اسرائیلی شہریوں پر حملوں کی بھی مذمت کی۔

ایران جنگ کے حوالے سے لولا نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے لیے اہم راستہ رہنا چاہیے تھا لیکن وہ جنگ کی خندق بن چکا ہے جس کے اثرات دنیا بھر میں ایندھن، کھاد اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔

یوکرین جنگ پر انھوں نے مزید کہا کہ میدان جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوگا اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔

انھوں برازیل اور چین کے قائم کردہ فرینڈز آف پیس گروپ کو مذاکرات کے لیے عالمی کوششوں کی مثال قرار دیا۔

برازیلی صدر نے وینزویلا کی خودمختاری، کیوبا پر اقتصادی پابندیوں اور لاطینی امریکا میں بیرونی مداخلت کے خلاف بھی بات کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں