پشتون نوجوان اپنی تاریخ، ثقافت، علم اور مستقبل سے امید حاصل کریں، گورنر بلوچستان

کوئٹہ (این این آئی)گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے پشتون کلچر ڈے کے موقع پر پوری پشتون قوم بالخصوص نوجوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی تاریخ سے روشنی، اپنی ثقافت سے شناخت، علم سے طاقت اور اپنے مستقبل سے امید حاصل کریں۔ ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں ثقافتی جڑوں سے وابستگی اور جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگی ایک دوسرے کی ضد نہ ہوں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل بنیں۔انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ انسانی تہذیب کا سفر انسان کی مسلسل تخلیقی، فکری اور سماجی ترقی کی داستان ہے۔ وقت کے ساتھ ثقافت کا تصور انسانی ذہن، معاشرے اور تہذیب کی تعمیر و نشوونما تک پھیلتا گیا۔ انسان نے اپنی بودوباش، علم، فنون، معیشت اور سماجی اداروں کو مسلسل ترقی دی اور ثقافت سے تہذیب تک کا سفر طے کیا، جبکہ آج انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید مواصلاتی ذرائع نے دنیا کو ایک دوسرے کے مزید قریب لاکر عالمی تہذیب کے ارتقا کی رفتار کئی گنا تیز کردی ہے۔گورنر بلوچستان نے کہا کہ ثقافت کسی بھی قوم کی شناخت، اجتماعی یادداشت اور تاریخی تسلسل کی علامت ہوتی ہے۔ پشتون کلچر ڈے ہمیں اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ اپنی روایات کی مثبت اقدار کو نئی نسلوں تک منتقل کرتے ہوئے انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پشتون قوم کی تاریخ قدیم اور شاندار روایات کی امین ہے جبکہ پشتو زبان خطے کی اہم اور بڑی زبانوں میں شمار ہوتی ہے۔ پشتون معاشرہ اپنی روایتی پوشاک، ذائقہ دار کھانوں، روایتی رقص، جرگہ، سخاوت، انسان دوستی اور مہمان نوازی جیسی قابل قدر روایات کے باعث منفرد ثقافتی شناخت رکھتا ہے۔ پشتون ثقافت کی خوبصورتی اس کے اجتماعی مزاج، وقار اور باہمی احترام میں بھی پنہاں ہے۔جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ شملہ پشتون معاشرے میں وقار اور شناخت کی علامت ہے تو شال آبادی کے ایک بڑے اور اہم حصے کی نمائندگی کرتی ہے، اس لیے ثقافتی ترقی اور سماجی پیشرفت اسی وقت مکمل ہوسکتی ہے جب معاشرے کے مرد اور خواتین برابر احترام، مواقع اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھیں۔ شملہ اور شال مل کر ایک متوازن اور ترقی یافتہ معاشرے کی تصویر مکمل کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پشتون کلچر ڈے محض اپنی ثقافت کو یاد کرنے کا دن نہیں بلکہ تجدید عہد کا دن بھی ہے۔ ہمیں اپنی زبان، ادب، تاریخ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے ساتھ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدید علم کے میدان میں بھی آگے بڑھنا ہوگا۔ نئی نسل اپنی شناخت پر فخر کرتے ہوئے دنیا کے جدید تقاضوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرے، یہی ہماری حقیقی کامیابی ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں