پرامن ملازمین پر طاقت کے بے جا استعمال، گرفتاریوں کیخلاف بلوچستان گرینڈ الائنس کا بلوچستان بھر میں دفاتر کی مکمل تالہ بندی کا اعلان

کوئٹہ (این این آئی) بلوچستان گرینڈا لائنس نے ملازمین کے خلاف طاقت کے بے دریغ استعمال، سرکاری ملازمین کوزخمی کرنے اور قائدین کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان بھر میں غیر معینہ مدت تک دفاتر اور سرکاری اداروں کی تالہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروسز کے سوا تمام ادارے اور دفاتر قائدین و گرفتار مظاہرین کی رہائی اور مطالبات کی منظوری تک بند رہیں گے، بدھ کو کوئٹہ کے تمام اہم چوراہوں پر دھرنے دیئے جائیں گے اگر فاشسٹ اقدامات کا سلسلہ نہ روکا گیا تو احتجاج میں مزید سختی بھی لائی جائے گی۔ اس بات کا اعلان بلوچستان گرینڈ الائنس کے جاری کردہ اعلامیے میں کیا گیا ہے۔ بلوچستان گرینڈالائنس کے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہاگیا ہے کہ صوبائی حکومت اور کوئٹہ کی ضلعی انتظامیہ نے نہتے اور پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کابے دریغ استعمال کیا جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، لاٹھی چارج اور شیلنگ کے نتیجے میں سینکڑوں ملازمین زخمی ہوئے ہیں، درجنوں ملازمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی اس سے ایک روز قبل حکومت نے وعدہ خلافی کی حد کرتے ہوئے مذاکرات کے بہانے بلا کر مرکزی قائدین کو گرفتار کیا اس کے بعد رات کے اندھیرے میں گرینڈا لائنس کی مرکزی آرگنائزنگ باڈی و کور کمیٹی اراکین کے گھروں پر چھاپے مارے گئے گرینڈ الائنس کے ہزاروں ملازمین جن میں خواتین اور سینئر سٹیزن بھی شامل تھے منگل کے روز پرامن احتجاج کے لئے اکھٹے ہوئے مگر افسوس کا مقام ہے کہ ان کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا لاٹھی چارج، شیلنگ اور گرفتاریوں کے باوجودسرکاری ملازمین کے حوصلے بلند رہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مرکزی قائدین کی گرفتاری کے باوجود الائنس میں شامل تنظیموں کے عہدیداران و ممبران چٹان کی طرح کھڑے رہے، جی پی او چوک، ریگل چوک، سائنس کالج چوک اور کوئٹہ پریس کلب کے باہر شدید شیلنگ کے نتیجے میں نہ صرف سرکاری ملازمین او رمظاہرین زخمی ہوئے بلکہ شیلنگ اور تشدد کے نتیجے میں صحافی، راہ گیر اور دیگر عام شہری بھی زخمی ہوئے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ چونکہ بلوچستان گرینڈ الائنس نے پہلے ہی واضح کردیا تھا کہ اگرحکومت اور انتظامیہ کی جانب سے ملازمین کے پرامن احتجاج کو سبوتاژ کرنے کی کوئی بھی کوشش ہوئی تواحتجاج میں سختی لائی جائے گی لہٰذا اب الائنس کی کور کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اگلے اعلان تک بلوچستان بھر میں سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسی سروسز کے علاوہ تمام دفاتر، ہسپتال، ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹس اور ہر قسم کے ادارے بند رہیں گے۔ علاہ وازیں حکومت کی مسلسل وعدہ خلافی، دھوکہ دہی،طاقت کے بے جا استعمال، قائدین کو ہراساں کرنے، ملازمین کی گرفتاریوں کے خلاف بدھ کے روز کوئٹہ کے تمام اہم چوراہوں پر دھرنے دیئے جائیں گے۔ احتجاج کا یہ غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا بیان میں کہاگیا ہے کہ سرکاری ملازمین کے خلاف فاشزم اور عدم برداشت پر مبنی رویے کا خاتمہ کرکے ہمارے مطالبات تسلیم، وفاق کی طرز پر تنخواہوں و مراعات میں اضافہ اور گرفتار ملازمین کی رہائی عمل میں نہ آئی تو اگلے مرحلے میں احتجاج میں مزید سختی لائی جائے گی جس میں صوبے کی تمام قومی شاہراہوں کو بلاک کرنے، سیاسی جماعتوں، وکلاء برادری، سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقاتیں کرکے پورے صوبے میں سخت تحریک شروع کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں