محققین کو چاہیے وہ صنعت، معاشرے اور کسان برادری کے لیے قابل عمل حل تجویز کریں، طاہر محمود

فیصل آباد (این این آئی)محققین کو چاہیے کہ وہ صنعت، معاشرے اور کسان برادری کے لیے قابل عمل حل تجویز کریں، جدید مصنوعات تیار کریں اور تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان مضبوط روابط قائم کریں جس سے علم پر مبنی معیشت کی راہ ہموار کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ بات پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انٹرپرینیورشپ کے سی ای او طاہر محمود نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے نیو سینیٹ ہال میں بزنس انکوبیشن سنٹر کے زیراہتمام منعقدہ دو روزہ ”ریسرچ کمرشلائزیشن بوٹ کیمپ“ کے دوران کہی جس کا مقصد محققین اور کاروباری افراد کو تحقیق کے نتائج کو عملی شکل دینے کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرنا تھا۔ طاہر محمود نے اس بات پر زور دیا کہ ایسی تحقیق کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے جو مسائل کا بروقت اور موزوں حل فراہم کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ اختراعی نظریات کی تجارتی بنیادوں پر منتقلی کسان برادری کو بااختیار بنانے اور زرعی پیداوار میں اضافے کا باعث بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی اور معاشی خوشحالی کے لیے تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان مضبوط روابط ناگزیر ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو نئی کاروباری تجاویز لانے کی ترغیب دی اور کہا کہ بزنس انکوبیشن سنٹر ان کے خیالات کو عملی جامہ پہنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔ ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر عمران ارشد نے کہا کہ موجودہ دور میں وہی ممالک کامیاب ہو رہے ہیں جو علم پر مبنی معیشت کی راہ پر گامزن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں تحقیقی منصوبے جاری ہیں جو آنے والے وقت میں ٹھوس نتائج فراہم کریں گے۔ بزنس انکوبیشن سنٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر افتخار نے طلبہ اور اساتذہ کی اسٹارٹ اپ سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بزنس انکوبیشن سنٹر نئے اسٹارٹ اپس کو تیزی سے ترقی دینے کے لیے ضروری تربیت، بوٹ کیمپس اور رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بزنس انکوبیشن سنٹر صنعتی شعبے سے پیشہ ورانہ روابط قائم کر رہا ہے تاکہ مشترکہ اسٹارٹ اپس کے ذریعے قومی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا جا سکے۔ اس موقع پر ڈاکٹر حبیب اسلم نے بھی اظہار خیال کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں