کوئٹہ (این این آئی)بلوچستان گرینڈ االائنس کی کال پر کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں سرکاری دفاتر اور اداروں کی مکمل تالہ بندی ‘ ہسپتالوں کی ایمرجنسی سروسز کے علاوہ تمام اداروں میں لاک ڈاؤن جمعرات کو بھی جاری رہے گا۔گرینڈ الائنس کا 28 جون کو صوبے کی تمام قومی شاہراہیں بلاک کرنے کا اعلان جبکہ بدھ کو مسلسل دوسرے روز بھی کوئٹہ میں مظاہرین پر شیلنگ کی گئی جس سے کئی مظاہرین کی حالت غیر ہوگئی۔دوسری جانب گرینڈ الائنس کے قائدین و گرفتار سرکاری ملازمین تاحال قید ہیں اور گزشتہ روز بعض گرفتار رہنماؤں کو کوئٹہ سے مچھ جیل منتقل کیا گیا جسے بلوچستان گرینڈ الائنس نے شرمناک قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ واضح رہے کہ بلوچستان گرینڈ الائنس نے تنخواہوں میں وفاق اور باقی صوبوں کی طرز پر اضافے،حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی وعدہ خلافی اور گرفتار قائدین کی رہائی کے لئے گزشتہ روز ریلی نکالنے کی کوشش کی تھی جس پر شیلنگ اور لاٹھی چارج سے متعدد زخمی ملازمین ہوگئے پرامن مظاہرین پر طاقت کے استعمال کے خلاف گرینڈ الائنس نے پورے صوبے میں تالہ بندی کا اعلان کیا تھا جس پر بدھ کو صوبہ بھر کے تمام سرکاری دفاتر اور ادارے (سوائے ہسپتالوں کی ایمرجنسی سروسز کے) بند رہے۔ بدھ کوبلوچستان گرینڈ الائنس کی کال پر ملازمین نے بڑی تعداد میں نکل کر احتجاج ریکارڈ کرایا جس کے دوران سائنس کالج چوک، منان چوک اور ایریگیشن کالونی چوک کو رکاوٹیں لگا کر بلاک کیا گیااس دوران ایک بار پھر ملازمین پر شیلنگ کی گئی جس سے کئی مظاہرین کی حالت غیر ہوگئی۔بلوچستان گرینڈ الائنس کی کور کمیٹی کے اجلاس میں اب تک کی صورتحال پر غور کیاگیا اور آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیاگیا جس کے تحت سرکاری دفاتر میں آج (بروز جمعرات) بھی مکمل تالہ بندی رہے گی اور اس دوران ہسپتالوں کی ایمرجنسی سروسز کو چھوڑ کر ہسپتال،سکول کالجز، جامعات اورتمام ادارے بند رکھے جائیں گے اور سروسز کی فراہمی معطل رہے گی۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ حکومت کی مسلسل ہٹ دھرمی اور ملازم کش پالیسی کے خلاف 28جون بروز ہفتہ تمام بین الصوبائی اور قومی شاہراہوں پر دھرنے دے کر ہائی ویز کو بلاک کیا جائے گا اور ہر قسم کی ٹریفک کو روکا جائے گا۔اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر گہری تشویش کااظہار کیا کہ وفاق اور باقی صوبوں کے برعکس بلوچستان میں ملازمین کو مسلسل دیوار سے لگایا جارہا ہے پہلے بجٹ پیش ہونے کے موقع پر مذاکراتی کمیٹی نے ہمارے مطالبات تسلیم کرنے کا اعلان پریس کانفرنس میں کیا اور بعد میں وعدہ خلافی کی گئی اس عمل کے خلاف گرینڈ الائنس نے آواز اٹھائی اور احتجاجی تحریک کا اعلان کیا تو پہلے قائدین کو مذاکرات کے بہانے بلا کر گرفتار کیاگیا اور اگلے روز اسمبلی جانے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے ملازمین پر لاٹھی چارج او رشیلنگ کے ساتھ ساتھ گرفتاریاں کی گئیں گرفتار مظاہرین کو جیل منتقل کیا گیا جہاں ان سے کسی کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی اور اب معلوم ہوا ہے کہ بعض قائدین کو کوئٹہ سے مچھ جیل منتقل کیاگیا ہے جو آمرانہ دور کی یا د تازہ کرتا ہے یہ اقدام شرمناک ہے۔دریں اثناء بلوچستان گرینڈالائنس کے جاری کردہ اعلامیے میں بلوچستان بھر کے ملازمین کا شکریہ ادا کیا گیا ہے جوطاقت دھونس دھمکیوں اور طاقت کے استعمال کے باوجودڈٹے رہے اور بدھ کو پورے صوبے کے تمام اداروں میں تاریخی لاک ڈاؤن کیا گیا تمام اضلاع کی ایکشن کمیٹیوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ جمعرات کوبھی تالہ بندی اور سروسز کی عدم فراہمی کا سلسلہ جاری رکھیں نیز 28جون کے احتجاج کی تیاری کریں 28جون کو بلوچستان کی تمام شاہراہوں پر دھرنے دیئے جائیں گے۔

