نوکنڈی(این این آئی) نیشنل پارٹی کے ضلعی سوشل میڈیا سیکرٹری مولابخش بلوچ بابائے چاغی پینل کے رہنماء ملک نعمت اللہ سمالانی اور خان پینل کے سینئر ورکر احمدعلی نوتیزئی نے انڈس ہسپتال نوکنڈی کے منیجر شیرجان بلوچ سے انکے آفس میں ملاقات کیں ملاقات میں انڈس ہسپتال میں پہلے سے بہتری لانے پہ انکے خدمات اور کاوشوں کو سراہا گیا انھوں نے شیرجان بلوچ سے ہسپتال میں مزید بہتری لانے پر بات کرتے ہوئے کہاکہ سی ڈی سی فنڈز جوکہ ریکودک پروجیکٹ کی جانب سے عوامی فلاح وبہبود اور ترقی کے لئے مختص کی گئی ہے یہ علاقہ کا حق اور امانت ہے اسے اگر بہتر انداز میں خرچ کیا جائے تو صحت تعلیم کے ساتھ دیگر بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں انھوں نے شیرجان بلوچ سے ہسپتال میں آپریشن تھیٹر کی بحالی بلڈ بینک کا قیام سے پہلے بلڈ میچنگ ودیگر سہولیات کی ایمرجنسی میں فراہمی ڈینٹیل وارڈ کے قیام اور ریکودک کے ملازمین کے ٹیسٹ کے الگ انتظام کرنے کی تجاویز پیش کئے جس پر شیرجان بلوچ نے وفد کی جانب سے صحت کے شعبہ میں بہترین تجاویز پیش کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ انڈس ہسپتال ہم سب کا ہے اور اس میں کوئی بھی شکایت یا کمی کو ہم تک لانا ہر شہری کا فرض ہے اور اس میں بہتری لانے کے لئے ہم سب نے مشترکہ کوشش کرنی ہے اور انڈس ہسپتال میں محدود جگہ اور کمروں کی کمی کی وجہ سے فی الوقت بہت سی سہولتیں دینا ممکن نہیں ہے مگر 2026 تک انڈس میں آپریشن تھیٹر کے لئے بلڈنگ کی تعمیر ڈینٹل وارڈ اور بلڈ بینک کا قیام ہماری ترجیحات اور پلان میں شامل ہے اور انشااللہ اسکے علاؤہ گائنی وارڈ میں آپریشن کی سہولیات اور کوالیفائیڈ ڈاکٹرز کی تعیناتی ہمارے پروگرام کا حصہ ہے اب بھی ہسپتال میں اکثر ٹیسٹس ایکسرے ودیگر سہولیات دستیاب ہے اور ڈاکٹرز جن میں فیمیل ڈاکٹر بھی شامل ہے کی ٹیم موجود ہیں ضلع چاغی کاواحدہسپتال ہے جہاں پورے ضلع کے علاقوں دالبندین تفتان سیندک اور نواحی علاقوں سے روزانہ کی بنیاد پر یہاں مریض لائے جاتے ہیں جنکا علاج ٹیسٹ دوائیاں مفت میں کی جاتی ہے بلڈ بینک کا قیام ہمارے پلان کا سب سے پہلی ترجیع ہے جسے جلد انشااللہ قائم کرکے لوگوں کو ریلیف دی جائیگی انھوں نے کہا کہ ہسپتال کو قائم ہوئے دو سال ہوئے ہیں کمی بیشی ضرور ہوسکتے ہیں مگر انھیں دور کرنے کی کوشش بھی کررہے ہیں اور انشاللہ سی ڈی سی فنڈز سے چلنے والے انڈس ہسپتال میں بہت جلد تمام امراض کی تشخیص اور علاج کو ممکن بنایا جائیگا نوکنڈی کے سیاسی قبائلی اور دیگر مکتبہ فکرسے تعلق رکھنے والے شخصیات کی تعاون ضروری ہے اور ہم بھی اپنی جانب سے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

