صوبائی محتسب سندھ دفتر کے تحت سرکاری محکموں کے خلاف عوامی شکایات کا ازالہ جاری

کراچی (این این آئی)صوبائی محتسب سندھ دفتر کے تحت سرکاری محکموں کے خلاف عوامی شکایات کا ازالہ جاری ہے۔ اس ضمن میں کراچی کے رہائشیوں محمد عابد، اسد علی، حیدر رضا، محمد فراز، لاڑکانہ کے بخت علی اور نوشہروفیروز کے جنید عالم کی شکایات حل کردی گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پی ای سی ایچ ایس کراچی کے رہائشی محمد عابد نے شکایت درج کروائی تھی کہ اس نے اپنی پراپرٹی کی سیل ڈیڈ سے متعلق تمام ضروری دستاویزات بمعہ فیس و ٹیکسز سب رجسٹرار جمشید ٹان ون کے دفتر میں جمع کروائے تھے جہاں سے اسکیننگ کے لیے بورڈ آف ریونیو آفس میں بھیج دیے گئے تھے تاہم گزشتہ دو سال سے متعدد چکر لگانے کے باوجود اسکے دستاویزات سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔ صوبائی محتسب سندھ کی جانب سے شکایت کنندہ کی درخواست کے نوٹس کے جواب میں انسپکٹر (اسٹامپ اینڈ انسپیکشن) بورڈ آف ریوینو سب رجسٹرار جمشید ٹان آفس کے اسٹاف کے ہمراہ صوبائی محتسب سندھ کو رپورٹ پیش کی کہ شکایت کنندہ کے دستاویزات اسکیننگ کے بعد اصل رسید نہ دکھائے جانے کے سبب دوبارہ سب رجسٹرار آفس میں بھجوائے جاچکے تھے لہذا سب رجسٹرار آفس میں اصل رسید جمع کرواکر سیل ڈیڈ حاصل کی جاسکتی ہے، بعد ازاں محمد عابد نے اصل رسید جمع کرواکے اپنی سیل ڈیڈ سب رجسٹرار جمشید ٹان ون آفس سے حاصل کی اور صوبائی محتسب کا شکریہ ادا کیا۔ اسی طرح سے جہانگیر روڈ کے رہائشی اسد علی نے شکایت درج کروائی کہ تمام ضروری کاروائی، فیس کی ادائیگی اور دفتر کے متعدد چکر کاٹنے کے گزشتہ دو سالوں باوجود سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، اسکیم 33 میں واقع اسکے پلاٹ کا بلڈنگ پلان کا اجازت نامہ فراہم نہیں کررہا ہے۔ صوبائی محتسب سندھ کے نوٹس کے جواب میں متعلقہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایس بی سی اے ضلع شرقی نے بتایا کہ انکے پاس شکایت کنندہ کے بلڈنگ پلان کے اجازت نامہ کی کوئی درخواست موجود نہیں ہے جبکہ بلڈنگ پلان کے اجازت نامے کی درخواست سنگل ونڈو فیسیلیٹیشن سینٹر پورٹل کے ذریعے جمع کروائی جاتی ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ پورٹل میں خرابی کے باعث شکایت کنندہ کی شکایت پورٹل پر ظاہر نہیں ہورہی تھی جبکہ انھیں گرانڈ پلس ون کی اجازت دی جاچکی ہے۔ بلڈنگ پلان کے اجازت نامے کی فراہمی پر شکایت کنندہ اسد علی نے صوبائی محتسب سندھ سے اظہار تشکر کیا۔ دوسری جانب ملیر کینٹ کی رہائشی حیدر رضا نے ایس ایچ او تھانہ سپر مارکیٹ لیاقت آباد کے خلاف شکات درج کروائی تھی کہ گلستان مزدور بلدیہ ٹان میں واقع اپنے پلاٹ کے ٹرانسفر کی غرض سے سپر مارکیٹ لیاقت آباد میں قائم کے ایم سی آفس میں گیا تھا جہاں فاروق شاہ نامی شخص نے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اسے تضحیک کا نشانہ بنایا اور اصل فائل چھین لی تھی جس کی رپورٹ کے لیے اس نے تھانہ سپر مارکیٹ سے رجوع کیا لیکن متعلقہ ایس ایچ واقعے کی ایف آئی آر درج کرنے سے انکاری ہے۔ صوبائی محتسب سندھ کی جانب سے نوٹس کے بعد متعلقہ تھانہ میں مذکورہ شخص کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں