تحریر: محمد مظہر رشید چودھری
زندگی کے سفر میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے دھارے میں کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں، مگر ان کی خوشبو دل و دماغ سے کبھی نہیں مٹتی۔ انہی خوشبودار لمحوں کو دوبارہ جِلا دینے، پرانے دوستوں سے ملنے اور اپنی مادرِ علمی کے آنگن میں ایک بار پھر قدم رکھنے کا موقع اْس وقت ملا جب ’گورنمنٹ گریجوایٹ کالج اوکاڑہ‘ کے سابق طلبہ کی تنظیم ’بارینز ایلومینائی ایسوسی ایشن‘ کا چوتھا سالانہ ڈنر نہایت شاندار انداز میں قائداعظم ہال میں منعقد ہوا۔یہ تقریب محض ایک رسمی اجتماع نہیں تھی بلکہ علم، رفاقت اور محبت کا حسین امتزاج تھی۔ قائداعظم ہال کا دلکش منظر، روشنیوں سے جگمگاتی فضا، مسکراہٹوں سے روشن چہرے اور ماضی کی یادوں سے لبریز دل سب مل کر ایک ایسے منظر کی تشکیل کر رہے تھے جو وقت کے ہر صفحے پر سنہری حروف میں محفوظ ہونے کے لائق تھا۔استقبالیہ پر صدر بارینز ایلومینائی ایسوسی ایشن پروفیسر عبدالروف اور انفارمیشن سیکرٹری راقم الحروف (محمد مظہر رشید چودھری) نے دیگر عہدیداران کے ہمراہ تمام معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ ان کے چہروں پر خوشی اور فخر کے آثار نمایاں تھے، جیسے اپنے ہی خاندان کے افراد کو برسوں بعد سینے سے لگایا جا رہا ہو۔تقریب کا باقاعدہ آغاز بانی تنظیم اور کالج کے سابق پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر حمود لکھوی کے خطاب سے ہوا۔ ان کا اندازِ گفتگو ہمیشہ کی طرح علم و بصیرت سے بھرپور تھا۔ انہوں نے بارینز ایلومینائی ایسوسی ایشن کے قیام کے پس منظر، مقاصد، کامیابیوں اور مستقبل کے اہداف پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم دراصل اْن لوگوں کے درمیان ایک پْل ہے جنہیں ایک ہی درسگاہ نے تربیت دی۔ اْن کے بقول ’کالج صرف تعلیم دینے کی جگہ نہیں ہوتا، یہ وہ جائے سکون ہے جہاں خواب پروان چڑھتے ہیں اور کردار بنتے ہیں‘۔بعد ازاں تقریب سے پرنسپل گورنمنٹ گریجوایٹ کالج اوکاڑہ سردار علی حیدر ڈوگر، ممبر قومی اسمبلی چودھری ندیم عباس ربیرہ، سابق ممبر صوبائی اسمبلی چودھری منیب الحق، سماجی شخصیت /اولمپیئن مظہر ساہی، پروفیسر ریاض خان اور سابق پرنسپل پروفیسر راو اقرار علی نے بھی اظہارِ خیال کیا۔ تمام مقررین کا لہجہ عقیدت اور محبت سے لبریز تھا۔ انہوں نے کہا کہ بارینز ایلومینائی ایسوسی ایشن آج ایک فعال پلیٹ فارم بن چکی ہے جو فارغ التحصیل طلبہ کو نہ صرف باہم جوڑے ہوئے ہے بلکہ نوجوان نسل کی رہنمائی، کیریئر کونسلنگ اور سماجی خدمات کے میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔اسی موقع پر سماجی شخصیت اور اولمپیئن مظہر ساہی نے اپنی تنظیم سے وابستگی کو عملی رنگ دیتے ہوئے اعلانات کیے جو حاضرین کے دلوں میں جوش بھر گئے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ گورنمنٹ کالج اوکاڑہ کے وہ طلبہ جو ایف ایس سی /ایف اے میں بورڈ سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کریں گے، انہیں اپنی طرف سے ’موٹر سائیکل‘ انعام میں دی جائے گی۔ اسی طرح یونیورسٹی میں ٹاپ کرنے والے طلبہ کو بھی موٹر سائیکل دی جائے گی، جبکہ اتھلیٹکس میں پاکستان بھر میں پہلی پوزیشن لینے والے طالب علم کے لیے پانچ لاکھ روپے اور اولمپکس میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طالب علم کے لیے دس لاکھ روپے کے انعامات کا اعلان کیا۔ ان اعلانات نے گورنمنٹ گریجوایٹ کالج کے طلبہ میں ایک نیا عزم اور ولولہ پیدا کر دیا ہے۔وائس چانسلر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان، پروفیسر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری نے اپنے خطاب میں تعلیم کے بدلتے ہوئے تقاضوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جدید دنیا میں علم کے ساتھ تربیت، کردار سازی اور اخلاقی استقامت ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے بارینز ایلومینائی ایسوسی ایشن کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم اپنے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے ایک مثالی ماڈل ہے جسے دیگر اداروں کو بھی اپنانا چاہیے۔قائداعظم ہال میں بیٹھے درجنوں سابق طلبہ جب اپنے پرانے اساتذہ اور کلاس فیلوز سے گلے ملے تو لمحہ لمحہ جذبات سے لبریز ہو گیا۔ کہیں قہقہے گونج رہے تھے، کہیں یادوں کے سفر پر باتیں ہو رہی تھیں۔ پرانے دنوں کی شرارتیں، امتحانات کی کہانیاں، کلاس روم کے قصے ہر موضوع جیسے نیا ہو گیا۔ڈنر کے دوران ماحول اور بھی پْررونق ہو گیا۔ خوش ذائقہ کھانوں کی مہک، دوستانہ گفتگوؤں کی گرمی، اور کیمروں کی چمکتی فلیش لائٹس ہر زاویہ محبت اور اپنائیت سے روشن تھا۔ مہمانانِ، اساتذہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے یوں محوِ گفتگو تھے جیسے وقت تھم گیا ہو اور زندگی چند لمحوں کے لیے ماضی کی بانہوں میں سما گئی ہو۔آخر میں تنظیم کے صدر پروفیسر عبدالروف اور دیگر عہدیداران نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور آئندہ برس مزید بڑے پیمانے پر تقریب منعقد کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔یوں یہ چوتھا سالانہ ڈنر نہ صرف ایک یادگار موقع ثابت ہوا بلکہ گورنمنٹ گریجوایٹ کالج اوکاڑہ کی تاریخ کا ایک روشن باب بھی بن گیا۔ یہ تقریب اس امر کی علامت تھی کہ ادارے صرف عمارتیں نہیں ہوتے، بلکہ وہ احساسات اور رشتوں کے وہ مراکز ہوتے ہیں جہاں سے انسان اپنے اصل کی پہچان پاتا ہے۔بارینز ایلومینائی ایسوسی ایشن نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ علم کے سفر کا اختتام نہیں، بلکہ ہر منزل کے بعد ایک نیا آغاز ہے۔ یہ شام دراصل اسی سفرِ دوام کی نمائندہ تھی ایک شام جو ہمیشہ دلوں میں زندہ رہے گی
محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)

