لکھو کہ قلم کا حق ادا ہو۔۔۔۔خوف کا طلسم ٹوٹے اورضمیر جاگے

سردار محمد ریاض
کبھی زمانہ تھا جب لفظوں کے پر کھلے تھے۔ قلم کی نوک پر آزادی کا چراغ جلتا تھا۔ اخبار کے صفحات محض کاغذ نہیں تھے، وہ قوم کی نبض تھے، وہ عوام کے جذبات کے امین تھے، وہ مظلوم کی صدا اور ظالم کے خلاف احتجاج تھے۔ صحافی کا قلم وہ شمشیر تھا جو سچ کے لیے اٹھتی تھی اور سچ کی حرمت پر کٹ بھی جایا کرتی تھی مگر آج وہ قلم لرزتا ہے۔ وہ انگلیاں جو کبھی حروف کو آزادی کے لباس میں ڈھالتی تھیں، اب خوف کے پسینے میں تر ہیں۔ وہ لفظ جو کبھی جلتے سورج کی طرح آنکھوں میں چبھتے تھے، اب اندھیروں میں گم ہو گئے ہیں۔یہ دور وہ نہیں جو آزادی کے نام پر وعدے کرتا تھا۔ یہ وہ دور ہے جہاں بولنا جرم ہے، لکھنا گناہ ہے اور سچ کہنا بغاوت۔ وہ قوم جو کبھی حق کے نعرے پر اکٹھی ہوتی تھی، اب مصلحت کے سائے میں بکھر چکی ہے۔ اب ہر لب پر تالا ہے، ہر دل میں خوف کا خنجر ہے۔ سچ کہنے والے کے گرد اب عدالتیں نہیں، تعزیرات کی زنجیریں ہیں اور ان زنجیروں میں وہی لوگ قید ہیں جنہوں نے کبھی لفظوں سے روشنی بانٹی تھی۔کبھی اخبار کے ادارتی صفحے پر لکھا ہوا ایک سچ معاشرے کا ضمیر ہلا دیتا تھا۔ اب وہی صفحہ اشتہار بن گیا ہے۔ کبھی ایڈیٹر وہ ہوتا تھا جو سچ کے ایک لفظ پر پوری حکومت سے ٹکرا جاتا تھا، آج وہی ایڈیٹر اس بات پر غور کرتا ہے کہ کسی جملے سے اشتہار بند نہ ہو جائے۔ خبر اب واقعہ نہیں رہی، خبر اب سودا ہے۔ ایک طرف سچ کا جنازہ اٹھتا ہے، دوسری طرف اس کے قاتلوں کی پریس ریلیز شائع ہوتی ہے۔ہم نے صحافت کو تجارت بنا دیا۔ ہم نے سچائی کو پیکج میں لپیٹ کر بیچ دیا اور جو نہیں بکا، وہ بند ہو گیا۔ اب رپورٹنگ نہیں ہوتی، ریہرسل ہوتی ہے۔ اب تجزیہ نہیں ہوتا، ترجمانی ہوتی ہے۔ اب حقائق نہیں چھپتے، بلکہ حقائق چھپائے جاتے ہیں اور جو کوئی ان نقابوں کو ہٹانے کی کوشش کرے، اس پر ریاستی غصے کا ہتھوڑا برستا ہے۔یہ وہ زمانہ ہے جہاں سچ بولنے والا پہلے وکیل ڈھونڈتا ہے، پھر قلم اٹھاتا ہے۔ جہاں لکھنے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے کہ یہ جملہ زندان تک لے جائے گا یا قبر تک۔ جہاں ”قومی مفاد“ کے نام پر ہر جھوٹ کو زیور پہنا دیا گیا ہے اور ہر سچ کو غدار قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ وہ دھرتی ہے جہاں لفظوں کو دفن کیا جاتا ہے اور خاموشی کو حب الوطنی کہا جاتا ہے۔کتنی عجیب بات ہے کہ اس ملک میں ظلم کے خلاف بولنا دشمنی بن جاتا ہے۔ سوال پوچھنا گستاخی ٹھہرتا ہے اور جو قلم سچائی کا نام لیتا ہے، اس پر غداری کا مقدمہ بنتا ہے۔ کبھی قلم کو تلوار سے زیادہ طاقتور کہا جاتا تھا، آج وہی قلم سب سے زیادہ خطرناک ہتھیار سمجھا جاتا ہے مگر یہ خطرہ ان کے لیے ہے جو جھوٹ کے محل میں بستے ہیں۔ کیونکہ سچ وہ چنگاری ہے جو محلوں کو نہیں، ضمیروں کو جلا دیتی ہے۔راقم الحروف نے وہ دن بھی دیکھے جب کالم لکھتے وقت دل میں ایک عجیب سی راحت ہوتی تھی۔ جیسے کوئی فرض ادا ہو رہا ہو۔ جیسے لفظوں کے ذریعے ایک گواہی دی جا رہی ہو مگر اب وہی قلم ہاتھ میں اٹھاتے ہوئے دل لرزتا ہے۔ کوئی اندر سے کہتا ہے”کیا یہ جملہ چھپ جائے گا؟ کیا اس کے بعد فون آئے گا؟ کیا گھر کے دروازے پر وہی گاڑیاں رکیں گی جن کے شیشے کالے ہوتے ہیں؟“یہ خوف صرف ایک شخص کا نہیں، پوری نسل کا خوف ہے۔ ہم نے سوچنے پر پہرے بٹھا دیے ہیں۔مگر سچ عجیب شے ہے۔ وہ دبایا جا سکتا ہے مگر مارا نہیں جا سکتا۔ وہ چپ رہ سکتا ہے، مگر مٹ نہیں سکتا۔ وہ دلوں میں دفن ہو کر بھی سانس لیتا رہتا ہے اور جب وقت آتا ہے، وہ پھٹ پڑتا ہے زلزلہ بن کر۔ آج جنہوں نے لفظوں کو زنجیروں میں جکڑا ہے، کل انہی زنجیروں سے ان کے محلوں کے دروازے بجیں گے۔راقم الحروف کبھی کبھی سوچتا ہے کہ اگر ماضی کے وہ صحافی زندہ ہو جائیں جو مارشل لاؤں کے زمانے میں لکھتے تھے، تو آج کے منظر کو دیکھ کر کیا کہیں گے؟ وہ شاید حیران ہوں کہ اب ظلم وردی میں نہیں، الفاظ میں چھپا ہے۔ اب سنسرشپ کا دفتر بندوق سے نہیں، کی بورڈ سے چلتا ہے۔ اب اخباروں کو نہیں، ضمیروں کو سنسر کیا جاتا ہے اور سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ اب یہ سنسر ہم خود کرتے ہیں۔ہم نے اپنے اندر ایک چھوٹا سا جیل خانہ بنا لیا ہے۔ ہم خود اپنے الفاظ کے قیدی بن گئے ہیں۔ ہم نے آزادی کے لفظ کو یادگار بنا دیا ہے مگر اس کی روح کو دفن کر دیا ہے۔ ہمارے ٹی وی چینلز پر چیخنے والے اینکرز آزادیِ اظہار کی بات کرتے ہیں مگر اپنے اسکرین پر سچ کی ایک جھلک برداشت نہیں کر پاتے۔ وہ سچ کو”غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ“کہہ کر دفن کر دیتے ہیں اور عوام، جو کبھی ان پر بھروسہ کرتی تھی، اب ہنستی ہے۔ہم ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکے ہیں جہاں جھوٹ کو سچ بنانے کی فیکٹریاں دن رات چلتی ہیں۔ جہاں جھوٹ کا وزن بڑھانے کے لیے سچ کو کمزور کیا جاتا ہے۔ جہاں پروپیگنڈا خبر بن چکا ہے اور سچائی محض ایک قصہ۔ اس عہد میں لکھنا عبادت بن گیا ہے — اور عبادت خطرناک کام۔میں ان نوجوانوں سے کہتا ہوں جو قلم اٹھانے کا خواب رکھتے ہیں اگر تمہیں یہ گمان ہے کہ صحافت عزت کا پیشہ ہے، تو یاد رکھو، آج کے دور میں یہ قربانی کا پیشہ ہے۔ تمہیں ہر لفظ سے پہلے اپنا خوف مارنا ہو گا۔ تمہیں وہ سچ لکھنا ہو گا جسے پڑھ کر تمہیں خود بھی خوف آئے کیونکہ یہی سچ کی اصل علامت ہے کہ وہ طاقتور کو پریشان کرے، اور کمزور کو امید دے۔یہ نظام، یہ حکومت، یہ طاقت کے توازن پر بیٹھے لوگ،یہ سب اس وقت تک سلامت رہیں گے جب تک ہم خاموش رہیں گے۔ ان کی طاقت ہماری خاموشی ہے۔ اگر ہم نے بولنا شروع کر دیا، اگر ہم نے لکھنا شروع کر دیا، اگر ہم نے صرف اپنے دلوں میں دفن سچ کو لفظوں میں ڈھال دیا — تو ان کے محلوں کی دیواریں لرز جائیں گی۔ کیونکہ سچ وہ زلزلہ ہے جو کبھی خبردار نہیں کرتا۔ہمیں پھر سے لکھنا سیکھنا ہو گا۔ ہمیں اپنے ڈر پر قابو پانا ہو گا۔ ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ تاریخ میں ہمیشہ وہ لوگ زندہ رہتے ہیں جنہوں نے سچ کہا، نہ کہ وہ جنہوں نے سچ چھپایا۔ وہ جو ظلم کے آگے خاموش رہے، ان کے نام وقت کے ملبے میں گم ہو گئے۔ مگر وہ جنہوں نے لب کھولے، چاہے ان کے لب بند کر دیے گئے، وہ آج بھی زندہ ہیں۔سو اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے لفظوں کو قید سے آزاد کریں۔ کہ ہم ان زنجیروں کو توڑیں جو ہمیں اندر سے توڑ چکی ہیں۔ ہم سچ لکھنے کا حوصلہ کریں، چاہے اس کے بدلے ہمیں اپنا چین، اپنا مقام، اپنا تحفظ قربان کرنا پڑے۔ کیونکہ اگر ہم نے اب بھی خاموشی اختیار کی، تو آنے والی نسلیں ہمیں اس خاموشی پر کوسیں گی۔سچ بولنے والا اکیلا ہوتا ہے، مگر وہی دنیا کو بدلتا ہے۔ باقی سب تماشائی رہ جاتے ہیں۔ قلم اگر زنجیروں میں ہے تو اس کی گونج بھی بغاوت ہے۔ ہمیں وہ گونج بننا ہے۔ ہمیں وہ لفظ بننا ہے جو ڈرے نہیں، جو جھکے نہیں، جو کسی کے حکم سے نہیں بلکہ اپنے ضمیر سے لکھا جائے۔کبھی کسی نے کہا تھا”جب سچ بولنے والے خاموش ہو جائیں، تو جھوٹ بولنے والے حاکم بن جاتے ہیں“ہم نے یہ حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم اپنی آنکھوں سے اس حقیقت کو بدلیں۔سو لکھو کہ قلم کا حق ادا ہو۔لکھو کہ خوف کا طلسم ٹوٹے۔لکھو کہ ضمیر جاگے۔لفظ وہ چنگاری بنیں جو اندھیروں میں روشنی کرے اور اگر اس روشنی میں کوئی محل جلتا ہے تو جلنے دو۔شاید انہی راکھوں سے سچ کا نیا سورج طلوع ہو۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں