کراچی ( رپورٹر ) عوام دوست پارٹی کے چیئرمین شاہد آرائیں نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان کا فخر ہیں اور انہوں نے قوم میں بیداری کی ایک نئی لہر پیدا کی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں بھی مثال بنیں۔ سندھ اور کے پی کی حکومتیں چیلنج ہیں۔سندھ میں کرپشن عروج پر اور گڈ گورننس کہیں موجود نہیں۔ بھتہ خور، حادثات، کچے کے ڈاکووں کی کھلی کاروائیاں اداروں میں سسٹم مافیا کی گھن گرج، بلدیاتی ادارے کرپشن میں ڈوبی ہوئے ہیں۔زمینوں پر قبضے اور چائنا کٹنگ ہو رہی ہے۔ مئیر کراچی کو صرف کیچڑ اچھالنا آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور پی پی پی کے میئر اور ٹاؤن چیئرمین منافق ہیں۔ سیاست سیاست کھیل رہے ہیں۔ کے ایم سی میں تو اتنا کرپشن ہے کہ میونسپل کمشنر کو ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔ جو مال بناکر فرار ہو رہا تھا۔ مئیر کراچی کی سرپرستی میں کراچی کی پرائم لینڈ بیچ دی گئیں۔ الہ دین پارک کی زمین، پٹرول پمپس، ہٹس،کئی ہزار گز گزری اور مہنگے علاقوں کی زمینیں عدنان زیدی کے زریعے بیچ دی گئیں۔ فیصل رضوی نے افضل زیدی، سیف عباس اور رضا عباس کے ساتھ ملکر سندھو دیش فتنہ کو نو ہزار ایکڑ زمین دے دی۔سمیرا حسن نے مارکیٹیں بیچ دیں۔ ایک ایک جگہ کے دس دس چالان جاری کردیئے۔ آٹھ سال سے اسٹیٹ میں راج کرنے کے علاوہ مرتضی وہاب اور افضل زیدی کی فرنٹ وومن ہیں۔کے ایم سی کا اصل کنٹرول مئیر، افضل زیدی، سمیرا حسن، سیف عباس اور فیصل رضوی کے پاس ہے۔ جبکہ اس ٹیم میں عدنان زیدی کا اضافہ ہوا ہے۔ جو وصی عثمانی کے غلط کام نہ کرنے پر معطل ہوئے اور اس سے بہت زیادہ کام کرنے پر میونسپل کمشنر نے اپنی پراڈو 18گریڈ کے افسر کو الاٹ کردی۔ سمیرا حسن اور افضل زیدی نے جو چھ سال میں گڑ بڑ گٹالون سے گریڈ بھی بڑھا لئے۔ سمیرا حسن 17سے 19، افضل زیدی گریڈ 18سے 20میں آگئے۔ جبکہ ان پر خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کے علاوہ کلک میں اربوں کے فراڈ، کے ایم سی میں ٹھیکوں سے لے کر زمینوں،ترقی اور تقرری پر بھاری رشوتیں، تعیناتی کے ریٹس،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس، عدالتوں میں کے ایم سی اور میئر کو ہزیمت،فراڈپر فراڈ، آمدنی سے زائد اثاثہ جات، سسٹم مافیا راج، بد انتظامی۔ او پی ایس افسران کے زریعے ادار ہ چلانے کے علاوہ مشتبہ سروس افسران کو تعینات کیا گیا ہے۔ مئیر اور میونسپل کمشنر افسر سے اربوں کے گیم کراکے انہیں بعد میں راز کھلنے پر اسے معطل کردیتے ہیں بعد میں بحال کرتے ہیں چارج شیٹ بھی نہیں دی جاتی۔ لیکن عمران صدیقی کو جس کے زریعے سمیرا حسن نے سارے گیم کئے مئیر کی ٹیم کے خاص رکن تھے فیصل رضوی کی چالوں میں آکر انہیں معطل کردیا گیا۔ اور سروس ختم کردی گئی۔جو اب مئیر اور انکی ٹیم کو ننگا کر رہا ہے۔ کے ایم سی اسوقت سندھی ایس سی یو جی اسٹیٹ، اور مشتبہ سروس افسران کی آماجگاہ ہے۔ آباد، صنعت کار، بلڈرز، تاجر برادری، اسٹیک ہولڈرزبھتہ کی پرچی اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ فیلڈ مارشل سے اپیلیں کر رہے ہیں جبکہ وزیر اعلی انہیں کہ رہے ہیں کہ میڈیا پر نہیں آنا چاہئے تھا۔ بجائے اسکے کہ سسٹم درست کریں بیڈ گورننس سے گورنر راج کی طرف معاملات کو لیجایا جا رہا ہے۔ ہم بھی فیلڈ مارشل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کراچی کے معاملے پر ایکشن میں آئیں اور تعصب زدہ حکومت سے نجات دلائیں۔ کرپشن کی جڑوں کو تباہ و برباد کردیں۔
سعیدتنولی
جنرل سیکریٹری

