بلوچستان پولیس کو معمول کے معاشرتی جرائم کیساتھ دہشت گردی جیسے سنگین چیلنجز کا بھی سامنا ہے، میر سرفراز بگٹی

کوئٹہ(این این آئی)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبے میں لیویز فورس کی پولیس میں منتقلی کے بعد فورس کی استعداد کار اور کارکردگی سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس بدھ کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا،اجلاس میں محکمہ داخلہ بلوچستان کے حکام نے لیویز سے پولیس میں منتقلی کے بعد ہونے والی پیش رفت، درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کے دوران پولیس کو دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے فوری اور وسیع المدتی منصوبوں کی منظوری دی گئی اور صوبے بھر میں 46 نئے سب ڈویژنل پولیس افسران (ایس ڈی پی اوز) کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ضلعی اور سب ڈویژنل سطح پر پولیس کی نگرانی اور انتظامی استعداد کو مزید مؤثر بنایا جا سکے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ڈویڑنل اور ضلعی سطح پر نئے پولیس انتظامی ڈھانچے کی فوری تشکیل اور اس کے لیے درکار تمام ضروری وسائل کی فراہمی کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ پولیس کی استعداد کار میں اضافے کے لیے حکومت ہر ممکن وسائل فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس کو معمول کے معاشرتی جرائم کے ساتھ ساتھ دہشت گردی جیسے سنگین چیلنجز کا بھی سامنا ہے، لہٰذا فورس کو پیشہ ورانہ مہارت، جدید تربیت اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ناگزیر ہے انہوں نے ہدایت کی کہ لیویز فورس کے انضمام کے بعد عوامی سہولیات کی فراہمی اور امن و امان کی بہتری کے لیے پولیس کی انتظامی حدود اور اختیارات میں درکار اصلاحات پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی وزیر اعلیٰ نے تمام اضلاع میں پولیس کی کارکردگی کی باقاعدہ مانیٹرنگ کے لیے ایک مؤثر نظام وضع کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ قانون کی بالادستی اور میرٹ پر مبنی نظام کے قیام سے عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہوگا اور امن و استحکام کو فروغ ملے گا اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان، سیکرٹری خزانہ لعل جان جعفر، سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے عمل کو مؤثر انداز میں مکمل کرتے ہوئے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں