بریل محض پڑھنے اور لکھنے کا ذریعہ نہیں، آزادی، اعتماد اور مساوی مواقع کی ایک پائیدار علامت ہے، صدر زر داری

اسلام آباد (این این آئی)صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بریل محض پڑھنے اور لکھنے کا ذریعہ نہیں، آزادی، اعتماد اور مساوی مواقع کی ایک پائیدار علامت ہے۔عالمی یومِ بریل کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر زر داری نے کہاکہ آج کے دن میں پاکستان بھر میں بینائی سے محروم افراد کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان کے وقار، حقوق اور قومی زندگی میں بھرپور شمولیت کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں۔انہوں نے کہاکہ بریل کا عالمی دن لوئس بریل کے یوم پیدائش کے موقع پر منایا جاتا ہے جن کے ایجاد کردہ بریل رسم الخط نے دنیا بھر میں لاکھوں افراد کیلئے تعلیم، معلومات اور خودانحصاری تک رسائی کو ممکن بنایا۔ بریل محض پڑھنے اور لکھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ آزادی، اعتماد اور مساوی مواقع کی ایک پائیدار علامت ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی بنیاد مساوات، سماجی انصاف اور انسانی وقار کے احترام کے اصولوں پر رکھی گئی تھی۔ ایک قوم کے طور پر ہماری ترقی اس بات سے مشروط ہے کہ ہر شہری کو معاشرے میں بامعنی کردار ادا کرنے کے مواقع میسر ہوں،بینائی سے محروم افراد کیلئے قابلِ رسائی تعلیم، جامع عوامی خدمات اور مساوی مواقع کی فراہمی نہ صرف ایک آئینی ذمہ داری بلکہ ایک اخلاقی فریضہ بھی ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان بریل خواندگی کے فروغ، جامع نصاب اور معاون و ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے استعمال کیلئے پرعزم ہے تاکہ تعلیم اور معلومات تک رسائی کو مزید وسعت دی جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی عمارتوں، سرکاری خدمات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں قابلِ رسائی معیارات کا نفاذ بھی نہایت اہم ہے تاکہ کوئی بھی فرد، شہری زندگی سے محروم نہ رہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان معذور افراد کے حقوق سے متعلق اقوامِ متحدہ کے کنونشن اور پائیدار ترقی کے اہداف سمیت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری جاری رکھے ہوئے ہے جو باوقار اور مساوی حقوق پر مبنی جامع اور منصفانہ معاشروں کے قیام پر زور دیتے ہیں۔انہ وں نے کہاکہ میں بینائی سے محروم افراد کی ثابت قدمی اور عزم کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، اس کے ساتھ ساتھ ان اساتذہ، والدین، دیکھ بھال کرنے والوں اور تنظیموں کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جو ملک بھر میں بریل کی تعلیم اور سماجی شمولیت کے فروغ کیلئے انتھک محنت کررہے ہیں۔ ان کی کاوشیں خودمختاری اور خودانحصاری کی راہیں ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔اس موقع پر میں وفاقی و صوبائی حکومتوں، اداروں، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ باہمی تعاون سے رکاوٹوں کے خاتمے، قابلِ رسائی سہولیات کے فروغ اور ہمدردی و شمولیت پر مبنی نطام کے فروغ کیلئے کام کریں۔ اس طرح ہم ایک ایسے پاکستان کے قیام کے قریب پہنچ سکتے ہیں جہاں ہر فرد کو اپنی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے مواقع حاصل ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں