لسبیلہ(بیوروچیف حفیظ دانش) اوتھل پولیس نے احتجاج کرنے والے لسبیلہ گرینڈ الائنس کے 40 سے زائد عہدیداران اور شرکاء کو گرفتار کرکے تھانہ اوتھل منتقل کردیا۔ گرفتار افراد میں اساتذہ سمیت مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین شامل ہیںواقعے کے دوران لسبیلہ پولیس کی جانب سے صحافیوں کو احتجاج کی کوریج سے بھی روک دیا گیا، جس پر عوامی، سماجی اور صحافتی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے آزادیٔ صحافت پر قدغن قرار دیا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت بلوچستان کو طاقت کے استعمال کے بجائے سرکاری ملازمین کے جائز مطالبات کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ معاشرے کے معمار ہوتے ہیں جو ہر افسر اور وزیر کی فکری تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، ایسے میں اساتذہ کی گرفتاری سے نہ صرف ان کے وقار کو ٹھیس پہنچتی ہے بلکہ اس کے منفی اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب گرفتار ملازمین کا کہنا ہے کہ گرفتاریاں اور جیل انہیں اپنے حقوق کے لیے جدوجہد سے نہیں روک سکتیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ چاہے انہیں پابندِ سلاسل ہی کیوں نہ کیا جائے، وہ اپنے مطالبات سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے

