پشاور(این این آئی)گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اس وقت خیبرپختونخوا کے بندوبستی و ضم اضلاع میں دہشتگردی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، پولیس اور مسلح افواج دہشتگردوں کیخلاف آپریشن میں جان کی قربانیاں دے رہے ہیں، صوبائی حکومت کو دہشتگردی کی بڑھتی صورتحال پر قابو پانے کیلئے سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے، صوبائی حکومت دہشتگردی کے واقعات میں افغانستان سرزمین ملوث ہونے کے ثبوت مانگتی ہے، کبھی اپنی ریاست سے بھی ثبوت مانگے جاتے ہیں جبکہ پوری دنیا نے کہا ہے کہ افغان سرزمین ہمارے صوبہ اور ملک میں دہشتگردی میں استعمال ہو رہی ہے، صوبائی حکومت افغانستان اور TTP کی نمائندگی کرنے کے بجائے اپنے صوبہ اور ملک میں پائیدار امن کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے، کرم کے بعد ضلع خیبر سے اب لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں، صوبائی حکومت کو آئی ڈی پیز کیلئے ابھی سے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔منگل کے روزگورنر ہاؤس پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ وفاق یہ مت سمجھے کہ وہ خیبرپختونخوا میں اپوزیشن میں ہیں تو صوبہ میں بڑے منصوبے شروع ہی نہیں کرنے ہیں، وزیراعظم سے درخواست کروں گا کہ وہ خیبرپختونخوا آئیں اور یہاں بھی لیپ ٹاپ کی تقسیم، دانش اسکول کے افتتاح سمیت بڑے منصوبے شروع کریں تاکہ یہاں کے عوام کا بھی وفاقی حکومت پر اعتماد بڑھے، پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی چاہئے کہ وہ پشاور سمیت صوبہ کے دیگر اضلاع میں عالمی معیار کے اسٹیڈیم تیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ میں پائیدار امن کے قیام کیلئے سب کو ملکر کام کرنا ہو گا، ہمارے صوبہ کو امن چاہئے، انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو دورہ سندھ کے دوران سندھ حکومت کیجانب سے نہ صرف خوش آمدید کہا گیا بلکہ انکو فل سیکیورٹی بھی فراہم کی گئی، کراچی میں وزیراعلٰی خیبرپختونخوا کو اپنے شیڈول پروگرامز میں کہیں بھی کوئی مسئلہ یا کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا، لیکن وزیر اعلٰی جب اپنا روٹ تبدیل کرنے کی وجہ سے ٹریفک رش میں پھنس گئے تو الزام سندھ حکومت پر ڈال دیا، مزار قائد جناح پارک میں جلسہ کرنے کے بجائے مزار قائد کے مرکزی گیٹ روڈ پر جلسہ کر کے شائد ٹریفک کو جلسہ بنانا تھا، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے ہمیشہ انتشار کی سیاست کی ہے، یہ خود کو اتنی بڑی سیاسی جماعت کہتے ہیں لیکن ان کے پاس کوئی ایک شخص ایسا نہیں ہے جس کو یہ وفاق میں اپوزیشن لیڈر بنا سکیں، گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ وہ ایک دفعہ پھر صوبائی حکومت کو کہنا چاہیں گے کہ صوبہ کے امن کیلئے کام کریں اور افغانستان کی فکر مت کریں، آئی ڈی پیز کو ابھی سے سنبھالنے کی تیاری کریں اور اپنی مسلح افواج اور پولیس کا دہشتگردی کیخلاف ساتھ دیں، ہماری پولیس بہادر پولیس ہے لیکن صوبائی حکومت نے انکی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے میں کوئی کام نہیں کیا، پولیس کیلئے جدید ہتھیار،بلٹ پروف گاڑیاں کچھ نہیں لی گئی ہیں اور جو گاڑیاں وفاق نے بجھوائیں انکو لینے سے انکار کر دیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں متحد ہو کر صوبہ کے امن کیلئے کام کرنا ہو گا۔

