لاہور (این این آئی)صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق اور چیئرمین بورڈ و سابق چیف سیکرٹری پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ زاہد سعید کی زیر صدارت محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن میں نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ کے بورڈ آف گورنرز کا 11 اجلاس منعقدہوا۔اجلاس میں سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن عظمت محمود کی شرکت ہوئی۔ اجلاس میں وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر محمود ایاز، پروفیسر زیبا عزیز اور ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل ڈاکٹر محمد وسیم و دیگر افسران کی شرکت ہوئی۔ وڈیو لنک کے ذریعے ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ فنانس خرم عزیز و دیگر افسران کی اجلاس میں شرکت ہوئی۔خواجہ سلمان رفیق اور کیپٹن ریٹائرڈ زاہد سعید نے زیر تعمیر نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ، ایچ آر و دیگر امور پر جاری پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔اجلاس میں 04 نکاتی ایجنڈا پیش اور منظور کیا گیا۔اجلاس میں 10 ویں اجلاس کے فیصلوں پر پیش رفت اور عملدرآمد رپورٹ کا بھی جائزہ لیاگیا۔اجلاس میں ایگزی کیوٹنگ ایجنسی آئی ڈیپ کی ٹیم کو بھی سراہا گیا۔اجلاس میں ادویات کے پروکیورمنٹ پراسیس پر بھی بریفنگ لی گئی۔اجلاس میں نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ کیلئے ہیومن ریسارس کی تعیناتی پر زور دیا گیا۔صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ کے کینسر کیئر کلینک کے فیز ون کا جلد آغاز کرنے جا رہے ہیں۔حکومت پنجاب لاہور میں 72 ارب روپے کی لاگت سے 915 بستروں پر مشتمل اسٹیٹ آف دی آرٹ نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ بنا رہی ہے۔نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ پر دن رات کام جاری ہے۔ آئی ڈیپ کو کینسر ہسپتال کو مقررہ وقت پر فنکشنل کرنے کی ہدایت کی ہے۔عوام کی زندگی میں بہتری لانے والا ہر کام حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ کو پیپر لیس کیا جائے گا۔چیئرمین بورڈ کیپٹن ریٹائرڈ زاہد سعید کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کینسر ہسپتال کے پہلے فیز کی تکمیل کے لئے مقررہ وقت کا ہدف دے دیا گیا ہے۔سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن عظمت محمود نے کہا کہ اجلاس میں کئے گئے تمام فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ میں مریضوں کے علاج معالجہ پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

