لسبیلہ(رپورٹ بیوروچیف حفیظ دانش)گورنر بلوچستان شیخ جعفر مندوخیل نے کہا ہے کہ صوبے کی تمام یونیورسٹیوں کے فنڈز ڈھائی ارب روپے سے بڑھا کر ساڑھے آٹھ ارب روپے کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد جامعات کو فنڈز کی کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ کنٹریکٹ پر تعینات ملازمین کو مستقل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے اور اس سلسلے میں یونیورسٹی سینٹ میں باقاعدہ پالیسی مرتب کی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لسبیلہ یونیورسٹی اوتھل کی کانووکیشن تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ بطور گورنر ان کی اولین ترجیح لسبیلہ یونیورسٹی سمیت صوبے کی تمام جامعات کو مالی طور پر مستحکم کرنا ہے۔ اسی مقصد کے تحت لسبیلہ یونیورسٹی کے فنڈز ڈھائی ارب روپے سے بڑھا کر ساڑھے آٹھ ارب روپے کیے گئے ہیں تاکہ ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر انتظامی و تعلیمی ضروریات کی بروقت تکمیل میں کسی قسم کی مشکلات پیش نہ آئیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے تربت اور لسبیلہ میں ایک ایک لاکھ روپے کے انعامات دیے گئے ہیں، جو ایک تعلیم دوست اقدام ہے اور اس سے طلبہ میں مقابلے اور محنت کا جذبہ مزید فروغ پائے گا۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ حکومت بلوچستان اور وفاقی حکومت تعلیم کے فروغ کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کر رہی ہیں، جبکہ یونیورسٹی ملازمین کے مسائل حل کرنا بھی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔گورنر بلوچستان نے واضح کیا کہ حکومت کا فوکس یونیورسٹیوں کی فیسیں بڑھانے پر نہیں ہے، کیونکہ فیسوں میں اضافے سے غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ تعلیم سے محروم ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ امیر اور غریب سب یکساں طور پر تعلیم جیسے زیور سے آراستہ ہو سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ لسبیلہ یونیورسٹی میں طلبہ کی ضروریات اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نئے اور جدید شعبہ جات متعارف کرائے جائیں گے، جن میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، کمپیوٹر سائنس اور دیگر اہم مضامین شامل ہیں۔ گورنر بلوچستان نے یقین دہانی کرائی کہ اب صوبے کی کسی بھی یونیورسٹی کو فنڈز کی کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، تاہم فراہم کیے گئے فنڈز کے شفاف اور درست استعمال کو یقینی بنایا جائے گاانہوں نے کہا کہ کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کے بعد ان کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے بھی ایک جامع پالیسی ترتیب دی جائے گی تاکہ جامعات کو کسی قسم کے انتظامی یا تعلیمی مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ درانی، پارلیمانی سیکریٹری سیاحت و ثقافت نوابزادہ میر زرین خان مگسی اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔

