آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے 25روزہ ”عوامی تھیٹر فیسٹیول 2026“ کا شاندار افتتاح کر دیا گیا

کراچی (رپورٹر) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے 25روزہ ”عوامی تھیٹر فیسٹیول 2026“ کا شاندار افتتاح کردیا گیا، جس میں عوامی تھیٹر فیسٹیول میں صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی نے خصوصی شرکت کی جبکہ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، ڈرامہ کمیٹی کے چیئرمین شہزاد رضا نقوی، سیکریٹری آرٹس کونسل اعجاز فاروقی ، گورننگ باڈی اراکین سمیت شوبز اور تھیٹر سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ عوامی تھیٹر فیسٹیول میں اردو ، پنجابی، میمنی، بلوچی، سرائیکی اور سندھی زبان میں 29 تھیٹر پیش کیے جائیں گے۔ تھیٹر روزانہ رات 8 بجے شروع ہوگا جبکہ ہفتہ اور اتوار کے دن دو شو بھی پیش کیے جائیں گے۔ صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی نے کہاکہ جنہیں ہم بچپن میں دیکھتے تھے پرانے فنکار آج یہاں موجود ہیں، آج بھی لوگ عمر شریف کو یاد کرتے ہیں، آرٹس کونسل ہمیشہ اچھے ڈراموں کو فروغ دیتا ہے، کراچی والوں سے گزارش ہے کہ وہ یہاں روزانہ آئیں، نئے نوجوان فنکار ان کہوں گا کہ سینئرز فنکاروں سے سیکھ کر کام کریں، احمد شاہ کی ٹیم اور فنکاروں کو خوش آمدید کہتا ہوں، انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت عوامی تھیٹر فیسٹیول کے تمام فنکاروں کو سپورٹ کرے گی، اختتامی تقریب میں فنکاروں کے لیے خوشخبری ہو گی، سندھ بھر میں ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں پہلے جو مچ کچہریاں ہوتی تھیں انہیں بحال کر رہے ہیں۔صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہاکہ آج ہم نے عوامی تھیٹر فیسٹیول کا افتتاح کیا ہے، عوامی تھیٹر فیسٹیول کے تمام ڈائریکٹر رائٹرز یہاں موجود ہیں، آرٹس کونسل وہ ادارہ ہے جہاں فنکاروں کے لیے پروگرام منعقد ہوتے ہیں، آرٹ اینڈ کلچر کے فروغ کے لیے آرٹس کونسل کی کاوشوں کو دنیا مانتی ہے، 25 دن میں 29 ڈرامے ہوں گے، عوامی تھیٹر فیسٹیول کے انعقاد میں واسطہ اور بلواسطہ 400سے 500لوگ منسلک ہیں جن میں فنکاروں ، ہدایتکاروں سے لے کر سیٹ ڈیزائنر سمیت ٹیکنیکل اسٹاف شامل ہے، رمضان سے پہلے عوامی تھیٹر فیسٹیول کا اختتام ہوگا۔ عوامی تھیٹر فیسٹیول میں عوام کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں ہے، ہماری کوشش ہے کہ غریب سے غریب کراچی والا بھی اس تفریح سے فائدہ اٹھا سکے، آرٹس کونسل کے 90فیصد پروگرامز پر ٹکٹ نہیں ہوتا ، عوامی تھیٹر فیسٹیول ہمارا مقبول ترین فیسٹیول ہے جس کا انعقاد سالوں سے ہورہا ہے، اہلیان کراچی سے کہوں گا کہ عوامی تھیٹر فیسٹیول میں اپنی فیملیز کے ساتھ شریک ہوں ۔ عوامی تھیٹر فیسٹیول کے پہلے روز رائٹر ڈائریکٹر شکیل شاہ کا اردو ڈرامہ ”سیدھی جلیبی“ پیش کیاگیا جس میں فنکاروں نے شاندار اداکاری سے حاضرین کے دل جیت لیے۔ ڈرامہ کی کہانی خواجہ سراءکے گرد گھومتی ہے جو ایک لڑکے کو اداکار بنانے کے لیے سب کچھ قربان کردیتا ہے۔ عوامی تھیٹر فیسٹیول میں ڈائریکٹر و رائٹر شکیل شاہ، وجیہہ وارثی، سہیل عباسی، ایچ اقبال، رضوان مرا، سید علی دارین، احسان امروہی، حمید راٹھور، ذاکر مستانہ، شوکت اترخیل، شبیر بھٹی، عظمت علی، شمیر راہی، تسنیم رعنا، بابر جمال، الیاس ندیم، نذر حسین، آفتاب کامدار، رﺅف لالہ، شکیل صدیقی، ولی شیخ، دانش بلوچ، آدم راٹھور، سلیم آفریدی، ظہور ملک، جمال مجیب، رشید صابر، جمیل راہی، آصف شرمیلا، زاہد شاہ، خالد دانش، یونس میمن، رضوان صابر، پرویز صدیقی اور شیما کرمانی کے ڈرامے پیش کیے جائیں گے جن میں مرزا غالب اِن کراچی، ہوتا ہے شب و روز تماشہ مرے آگے، اُلٹا شُلٹا، بہت ہوگئی بیگم، تجھ پہ قرباں، یہ کیسا دور ہے؟، واہ تیرا کیا کہنا، رَب دیاں رحمتاں(پنجابی)، نونے پوں، میرے فرینڈ کی گرل فرینڈ، بی پازیٹو، پنجو تھینو کرو(میمنی)، بد روح، مریض کروڑ کا، لالے دی جان، وطن کی مٹی، بلوچی تھیٹر کندانا بیائ(ہنستے آﺅ)، سلیم کی کہانی، پردیس (سرائیکی)، پالنا، اب کیا ہوگا؟، ٹینشن، یہ کیسے رشتے ہیں؟، محبت کیا بھاﺅ ہے؟، دل جی دُنیا(سندھی)، نہلے پہ دھلااور مجھ میں تُو موجودشامل ہیں۔ عوامی تھیٹر فیسٹیول 15 فروری تک آرٹس کونسل آڈیٹوریم IIمیں جاری رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں