آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام معروف شاعر افتخار عارف کے اعزاز میں ”اعتراف کمال“ تقریب کا انعقاد

کراچی (رپورٹر ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام معروف شاعر افتخار عارف کے اعزاز میں ”اعتراف کمال“ تقریب کا انعقادحسینہ معین ہال میں کیاگیا۔۔تقریب میں افتخار عارف کے مداحوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔۔۔م صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے تقریب کی نظامت کے فرائض انجام دیے، تقریب میں معروف شاعر عباس تابش، شاہد رسام ،غازی صلاح الدین ، شاعرہ فاطمہ حسن سمیت مختلف سماجی و ادبی شخصیات اور شعرا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز معروف شاعر افتخار عارف کی فنی زندگی پر مبنی شور یل سے کیاگیا۔ گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہاکہ یہ اعتراف کمال ہے افتخار عارف صاحب کے لیے ہے، یہاں افتخار صاحب کے دوست اور ادبی شخصیات موجود ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ اس عہد میں اتنی مقبولیت کسی کے حصہ میں آئی ہو جتنی افتخار عارف کے حصے میں آئی، افتخار عارف پہلے شاعر ہیں جنہیں ان کی زندگی میں نشان امتیاز ملا، انہوں نے کہاکہ 50 برس سے افتخار عارف پر ہر نمایاں آدمی نے لکھا ہے، ان کے بہت سے مصروں کی دھوم ہے، معروف شاعر افتخار عارف نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہاکہ جب میں لکھنو سے کراچی آیا وہ ہجرت تھی، کچھ دن برطانیہ ، امریکہ میں رہنے کا اتفاق ہوا، ہجرت کسی مقصد کے تحت ہوتی ہے، غالب نے زندگی میں ایک بات کہی تھی کہ میں موت سے نہیں ڈرتا میں راحت کے فقدان سے ڈرتا ہوں، میں نے بہت غربت اور مشکل حالات دیکھے، جس اسکول میں پڑھتا تھا میں یہ کہتا تھا بڑا ہوکر اس کا ہیڈ ماسٹر بنوں گا، انہوں نے کہا کہ میں ایک خواہشمند آدمی تھا، جو چیزیں ملیں اس کا شکر اور جو نہ ملیں اس کا افسوس کرتا ہوں، میرا تعلق سندھ سے ہے میں پاکستان کا شہری ہوں، کوئی شخص یہ کہے کہ میں جہاں پیدا ہوا تھا مجھے وہ گھر یاد نہیں آتا تو وہ جھوٹ کہتا ہے، میں نے ساری زندگی اکیلے گزاری، یاور مہدی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے افتخار عارف نے کہا کہ یاور مہدی لکھنو یونیورسٹی کے پڑھے ہوئے تھے، میں یاور مہدی کو جانتا تھا کیونکہ جس دن میرا آڈیشن تھا، اسی دن مرحوم طلعت حسین کا بھی آڈیشن تھا، قدرت خود مواقع فراہم کرتی ہے، یہاں بہت سے لوگ موجود ہیں جو اس زمانے کے اشعار سے واقف ہیں۔۔جب پاکستان آیا، تب میں ابتدا میں بُرے بُرے اشعار کہا کرتا تھا، پاکستان میں میرا ایک چھوٹا سا حلقہ تھا، جہاں میں شعر سنایا کرتا تھا۔ افتخار عارف نے کہا کہ میں نے اسلامی تاریخ کے کرداروں کو سامنے رکھ کر نظمیں بنائیں۔۔میں نے کربلا کے استعارے کو سامنے رکھ کی نظمیں لکھیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فیض احمد فیض میرے بہت بڑے نقاد تھے۔ فیض صاحب نے خود میرے پیش لفظ میں سب سے پہلے نشان دہی کی ، فیض احمد فیض نے میرے لیے کہا کہ اقبال کے بعد افتخار عارف نے اسلامی تاریخ پر بہترین شاعری کی ہے، افتخار عارف نے مزید کہا کہ جو لوگ رشتوں کے ادب اور احترام کو نہیں سمجھتے، وہ محبت بھی نہیں کر سکتے، تقریب میں افتخار عارف نے اپنا نعتیہ اور شعرانہ کلام بھی پیش کیا، انہوں نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز کے حوالے سے مختلف قصے حاضرین کے گوش گزار کیے جس پر حاضرین نے دل کھول کر داد دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں