لاہور (این این آئی)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ ملک بھر میں آٹا مہنگا ہونے کے باعث عام آدمی کی فاقہ کشی پر مجبور ہو گیا ہے،20 کلو آٹے کا تھیلا بعض شہروں میں 3 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ ریٹیل مارکیٹوں میں آٹے کے تھیلے کی عام قیمتیں سرکاری ریٹ سے بھی کہیں زیادہ ہیں، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں 15 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 1,800 روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ گوجرانوالہ، فیصل آباد اور راولپنڈی میں 20 کلو آٹے کی قیمت 2,100 روپے یا اس سے زائد ہے،آٹے کی قیمت میں ہوشربا اضافے نے گھریلو بجٹ پر ناقابلِ برداشت بوجھ ڈال دیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ عوام کے لیے روزمرہ کی روٹی کا نوالہ بھی تقریباً چھین لیا گیا ہے۔ غریب گھرانے اپنے بچوں کے لیے ایک سادہ روٹی کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں، جبکہ مہنگائی کے بوجھ نے شہریوں میں بے چینی، بے روزگاری اور ذہنی دباوبڑھا دیا ہے۔ سونا بھی عام آدمی کے لیے ایک خواب بن چکا ہے۔ ملک میں فی تولہ سونا 5 لاکھ 14 ہزار روپے کا ہو گیاہے۔ یہ حکومت عوام کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے، لوٹ مار اور مافیاز نے ہر ادارے میں اپنے پنجے گاڑھ لیے ہیں، اور عام آدمی کے لیے اب کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔جاوید قصوری کا کہنا تھا کہ غربت، مہنگائی اور بڑھتے ہوئے بحران نے عوام کو دلبرداشتہ کر دیا ہے، جس کے باعث خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے عوام کی فریاد سننی چاہیے اور فوری طور پر بنیادی اشیائے خورونوش، خاص طور پر آٹے، چینی، گھی، اور توانائی کے نرخوں میں کمی کے لیے ٹھوس اور شفاف پالیسیز متعارف کرانی چاہئیں۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب نے بین الاقوامی اور مقامی معاشی حالات کو بھی مدِنظر رکھتے ہوئے کہا کہ حکومتی ناقص فیصلوں، ناکام اقتصادی منصوبہ بندی اور غیر شفاف تجارت نے مہنگائی کا طوفان پیدا کیا ہے جس کا خمیازہ عام عوام بھگت رہی ہے۔ انہوں نے فوراً غریب عوام کے لیے ریلیف پیکجز، عوام دوست پالیسیاں، اور خوراک و توانائی کی سستی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو بے روزگاری، مہنگائی، اور افراتفری کے اس دور سے نکالا جا سکے۔

