حکومت اختلافِ رائے دبانے سے باز آئے، گرفتار وکلاء کو فوری رہا کیا جائے — انجنیئر حمید بلوچ

تربت (رپورٹر ) نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی نائب صدر انجنیئر حمید بلوچ نے بلوچستان میں وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو ہراساں کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ طرزِ عمل کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے میں قابلِ قبول نہیں۔ انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھانا جرم نہیں بلکہ ہر شہری کا آئینی اور قانونی حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایمان مزاری اور ہادی ایڈووکیٹ کی گرفتاری دراصل اختلافِ رائے کو دبانے کی کوشش ہے، جو نہ صرف آئینِ پاکستان کی خلاف ورزی ہے بلکہ قانون کی بالادستی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکن معاشرے میں انصاف، آزادی اور بنیادی حقوق کے محافظ ہوتے ہیں، انہیں نشانہ بنانا جمہوری اقدار کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
انجنیئر حمید بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان پہلے ہی سنگین سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے، ایسے میں جبر اور ہراسانی کے اقدامات حالات کو مزید خراب کریں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمے، برداشت اور آئینی راستے کو اپنائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایمان مزاری، ہادی ایڈووکیٹ سمیت تمام گرفتار وکلاء کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور بلوچستان میں وکلاء و انسانی حقوق کے کارکنوں کو بلا خوف و خطر اپنے فرائض انجام دینے کا حق دیا جائے۔ یہی جمہوریت، انصاف اور پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں