کراچی (رپورٹر ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے جاری ”عوامی تھیٹر فیسٹیول 2026“ کے تیسرے روز دو اسٹیج ڈراموں ”ہوتا ہے شب و روز تماشا“ اور مزاح سے بھرپور ”اُلٹا شُلٹا“ نے شائقین کو خوب محظوظ کیا۔ آڈیٹوریم II میں شائقین کی بڑی تعداد موجود تھی، جبکہ فنکاروں کی شاندار پرفارمنس پر حاضرین کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔ فیسٹیول کے تیسرے روز پہلا اسٹیج ڈرامہ ”ہوتا ہے شب و روز تماشا“ شام 6 بجے پیش کیا گیا، جس کے رائٹر اور ڈائریکٹر سہیل عباسی تھے۔ ڈرامے میں شر غزل، ارمہ احمد، بوبی کمال اور فرخ دربار نے اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اس ڈرامے میں شہرِ کراچی کے مسائل کو مزاحیہ انداز میں اجاگر کیا گیا، جن میں عوام کی جہالت، تعلیمی اور صحت کے نظام میں بے ضابطگیاں، پانی، بجلی اور گیس کے مسائل کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی شامل تھی۔ ڈرامے نے طنز و مزاح کے ذریعے نہ صرف تفریح فراہم کی بلکہ ناظرین کو مسکرانے پر بھی مجبور کیا، اور اس افراتفری کے دور میں خوشیوں کی ایک جھلک پیش کی۔ مزاح سے بھرپور دوسرا اسٹیج ڈرامہ ”اُلٹا شُلٹا“ بھی شائقین کی توجہ کا مرکز رہا۔ ڈرامے کے ڈائریکٹر رضوان مرزا جبکہ رائٹر ایچ اقبال تھے۔ ڈرامے میں اشرف چراغ، عمران نواز، شانزے، ستارہ زیدی اور عائشہ جبران نے شاندار اداکاری کی۔ ڈرامے کی کہانی ایک خوشحال خاندان کے گرد گھومتی ہے اور طنز و مزاح کے ساتھ مختلف سماجی پیغامات بھی پیش کرتی ہے۔ کہانی کے مطابق ایک سیٹھ اپنی بیٹی کی شادی اپنی بہن کے بیٹے سے کرنا چاہتا ہے جو بیرونِ ملک مقیم ہوتا ہے، جبکہ سیٹھ کی بہن بھی خواہش رکھتی ہے کہ اپنے ایک بیٹے کی شادی اپنے بھائی کے بیٹے سے کرائے۔ ڈرامے میں ایک بیٹے پر چارلی چیپلن کا بھوت سوار ہوتا ہے جبکہ دوسرے بیٹے کو کرکٹر بننے کا جنون ہوتا ہے اور وہ خود کو سپر اسٹار کہتا پھرتا ہے۔ لڑکی کہتی ہے کہ وہ پہلے یہ دیکھے گی کہ اس سپر اسٹار کے ساتھ اس کی زندگی کیسے گزرے گی، اس کے بعد ہی شادی کا فیصلہ کرے گی۔ ڈرامے میں مزید دلچسپ موڑ اس وقت آتا ہے جب سیٹھ کے بزنس مین دوست کا بیٹا ناراض ہو کر گھر چھوڑ دیتا ہے اور سیٹھ کی بہن کے یہاں ڈرائیور بن جاتا ہے۔ اسی دوران اس ڈرائیور کو سیٹھ کی بہن کی بیٹی سے محبت ہو جاتی ہے، اور بعد میں انکشاف ہوتا ہے کہ وہ ڈرائیور دراصل سیٹھ کے دوست کا بیٹا ہے۔

