جمعیت کے کارکن عبد الودود کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے، ماورائے عدالت شہریوں کو اٹھانا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے،مولانا عبدالرحمن رفیق

کوئٹہ (این این آئی) جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبد الرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینیئر نائب امیر مولانا خورشید احمد حاجی بشیر احمد کاکڑ سیکرٹری مالیات حاجی صالح محمد نورزئی مفتی رضا خان میر سرفراز شاہوانی حاجی ظفراللہ کاکڑ میر حشمت لہڑی سیٹھ اجمل بازئی سالار مولوی علی جان مولوی سید سعداللہ آغا مولوی نقیب اللہ ملاخیل اور دیگر رہنماؤں نے اخباری بیان میں کہا ہے کہ جمعیت کے کارکن عبد الودود کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ماورائے عدالت شہریوں کو اٹھانا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عبد الودود ولد مولانا محمد قاسم کو ایف سی کی وردی میں ملبوس اہلکاروں نے 28 دسمبر 2025ء و رات ایک بجے اٹھا کر غائب کر دیا ہے۔ اگر ان پر کوئی جرم ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ عبد الودود کو فوری طور پر انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے مقامی پولیس کے زمہ داران سے ملاقاتیں کرکے عبد الودود کے بارے میں جاننا چاہا، لیکن انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ عبد الودود کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور ان کے خلاف کوئی جرم ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ عبد الودود کی بازیابی کے لیے فوری طور پر اقدامات کرے۔انہوں نے کہا کہ اگر عبد الودود کو فوری طور پر بازیاب نہ کیا گیا تو جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں اس سلسلے میں اہم فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پرامن کارکن اور معزز شہری لاوارث نہیں، خدا نخواستہ اگر کوئی بھی شخص کسی بھی جرم میں ملوث ہو تو جمعیت علماء اسلام اس کا دفاع کرنے کی بجائے اسے عدالت اور قانون کے ذریعے سے ہی معاملہ دیکھنا چاہتی ہے۔ مگر رات کے اندھیرے میں بغیر کسی ثبوت کے چاردیواری کے تقدس کی پامالی کی اجازت نہیں دے سکتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں