کراچی (رپورٹر )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام 25 روزہ ’’عوامی تھیٹر فیسٹیول 2026‘‘ کے چوتھے روز دو اردو ڈرامے ’’بہت ہو گئی بیگم‘‘ اور ’’تجھ پہ قربان‘‘ پیش کئے گئے ۔ جس میں شام چھے بجے پہلا اسٹیج ڈرامہ ’’بہت ہو گئی بیگم‘‘ پیش کیا گیا۔ ڈرامے کے لکھاری سید علی دارین جبکہ ہدایتکار احسن امروہی تھے۔ ڈرامے میں نجمہ، شبیر بھٹی، تسنیم راعنا، ستارہ زیدی، علی رضا، سویرا شاہ، عمیر ایوب، عمران علی مانی، ناصر خان، سپنا غزل اور نسیم بٹ نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔’’بہت ہو گئی بیگم‘‘ ایک ایسا ڈرامہ تھا جو مزاح کے ساتھ ساتھ اصلاحی پیغام بھی دیتا ہے۔ ڈرامے کی کہانی ایک طوائف کے گرد گھومتی ہے، جس میں ایک شریف خاندان کے شخص کو طوائف سے شادی کرتے دکھایا گیا ۔ کہانی کے مطابق لڑکی اس وقت کوٹھے سے بھاگ جاتی ہے جب جگو اسے فروخت کرنا چاہتا ہے۔ لڑکی کے والدین وفات پا چکے ہوتے ہیں اور وہ بھاگ کر سیٹھ امجد کے گھر پہنچ جاتی ہے۔سیٹھ امجد لڑکی کی داستان سے متاثر ہو کر اسے اپنے گھر میں پناہ دے دیتا ہے۔ ڈرامے میں سیٹھ امجد کو ایک ڈرپوک شخص کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو اپنی بیوی سے خوف زدہ رہتا ہے۔ وہ ڈرتے ڈرتے اپنی بیوی کو لڑکی کے بارے میں آگاہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ آج سے یہ لڑکی تمہارے ساتھ سماجی سرگرمیوں میں شریک ہوگی۔ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ سیٹھ امجد کا ایک بیٹا ہوتا ہے جسے اس لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے، تاہم اس کی ماں اس رشتے کی سخت مخالفت کرتی ہے۔ اختتام پر سیٹھ امجد بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی بیوی کے سامنے ڈٹ جاتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ اگر سیما کی شادی ہوگی تو وہ صرف نومی سے ہوگی۔ ڈرامے کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا کہ ایک طوائف بھی عورت ہوتی ہے اور اسے بھی معاشرے میں عزت کے ساتھ جینے کا پورا حق حاصل ہے۔ جبکہ رات آٹھ بجے دوسرا اسٹیج ڈرامہ ’’تجھ پہ قربان‘‘ پیش کیا گیا۔ ڈرامے کے مصنف و ہدایتکار حمید راٹھور تھے۔ جبکہ فنکاروں میں عبداللہ لالہ، ارما احمد، ناصر خان، شبیر بھٹی، شانزے اور طلحہ بھوجانی شامل تھے۔’’تجھ پہ قربان‘‘ کی کہانی ایک پولیس افسر کے گرد گھومتی ہے۔ ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ ڈی ایس پی اورنگزیب کے تعلقات بدنام زمانہ افراد سے ہوتے ہیں، جو رفتہ رفتہ اس کی ذاتی زندگی کو بھی متاثر کرنے لگتے ہیں۔ کہانی میں ایک گینگ لیڈر شانی ڈی ایس پی کے قریب آ جاتا ہے، جبکہ ڈی ایس پی کا بے روزگار بیٹا شانی کے گینگ کا حصہ بن جاتا ہے۔ان حالات سے دلبرداشتہ ہو کر ڈی ایس پی کی بیوی راحیلہ گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔ کچھ عرصے بعد راحیلہ ایس ایس پی بن کر واپس آتی ہے اور اسی علاقے میں تعینات ہو جاتی ہے جہاں آپریشن جاری ہوتا ہے۔ آپریشن کے دوران گینگ لیڈر شانی گرفتار ہو جاتا ہے۔ڈرامے کے ایک اہم منظر میں راحیلہ کا سوتیلا بیٹا پستول تان کر اپنی ماں کو قتل کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاہم ڈی ایس پی اورنگزیب قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو خود گولی مار دیتا ہے۔ ڈرامے میں اس حقیقت کو اجاگر کیا گیا ہے کہ پولیس افسر دہشت گردی کے خلاف اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر لڑتے ہیں۔ ان کی نظر میں قانون سب سے بالا تر ہے، چاہے سامنے اپنی اولاد ہی کیوں نہ ہو۔فیسٹیول کے چوتھے روز بھی آرٹس کونسل کے آڈیٹوریم ٹو میں اہلیانِ کراچی کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔

