تربت(رپورٹر) نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی نائب صدر انجنیئر حمید بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان سراپا احتجاج ہے، اور یہ احتجاج کسی ایک جماعت، کسی ایک طبقے یا کسی ایک شہر تک محدود نہیں رہا۔ یہ اس نظام کے خلاف عوامی فیصلہ ہے جس نے برسوں سے بلوچستان کو صرف وعدے دیے، انصاف نہیں۔
ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ بلوچستان کیوں ناراض ہے؟
ہم پوچھتےہیں بلوچستان کیوں ناراض نہ ہو؟
آج بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ ایک ایسا ناسور بن چکا ہے جس نے ہر گھر کو متاثر کیا ہے۔ معزز شہری، نوجوان، طلبہ اور سیاسی کارکن لاپتہ ہیں۔ ان کے ماں باپ، بہنیں اور بچے سڑکوں پر ہیں، مگر ایوانوں میں خاموشی ہے۔ کیا یہی ریاستی انصاف ہے؟
آج معزز شہری اور تاجر بھتہ خوری کے لیے اغوا ہو رہے ہیں۔ کاروبار بند، منڈیاں ویران اور سرمایہ فرار ہو رہا ہے۔ یہ اغوا صرف افراد کے نہیں، یہ بلوچستان کے مستقبل کے اغوا ہیں۔ جب ایک تاجر غیر محفوظ ہو، ایک مزدور خوفزدہ ہو اور ایک نوجوان بے روزگار ہو، تو امن کیسے آئے گا؟
اور المیہ یہ ہے کہ جو سرکاری ملازمین اپنے بچوں کے لیے روٹی، اپنے خاندان کے لیے عزت اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، ان پر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے، آنسو گیس برسائی جاتی ہے اور جیلوں میں ڈالا جاتا ہے۔ ہم صاف کہنا چاہتے ہیں
لاٹھی ریاست کی کمزوری کی علامت ہوتی ہے، طاقت کی نہیں۔
بلوچستان کے وسائل پر پہرا ہے، مگر بلوچ عوام پر اعتبار نہیں۔
گیس ہماری، معدنیات ہماری، ساحل ہمارا
لیکن غربت، بے روزگاری اور محرومی بھی ہماری
یہ کیسی شراکت ہے؟ یہ کیسا وفاق ہے؟
ہم واضح الفاظ میں کہنا چاہتے ہیں کہ طاقت، بندوق اور جبر بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں کر سکتے۔ یہ راستہ آزمایا جا چکا ہے اور ہر بار ناکامی ہی ملی ہے۔ بلوچستان کو جوڑنا ہے تو انصاف سے جوڑنا ہوگا، احترام سے جوڑنا ہوگا، آئین اور حقوق سے جوڑنا ہوگا۔
نیشنل پارٹی کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے
مسائل کا حل بندوق نہیں، سیاسی مکالمہ ہے۔
مسائل کا حل لاپتہ کرنا نہیں، عدالت اور قانون ہے۔
مسائل کا حل لاٹھی نہیں، عوامی اعتماد ہے۔
ہم ریاست سے کہتے ہیں
بلوچستان کو دشمن نہ سمجھیں۔
احتجاج کو بغاوت نہ بنائیں۔
اور عوام کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھیں۔
اگر آج بھی بلوچستان کی آواز نہ سنی گئی، اگر آج بھی زخموں پر نمک چھڑکا گیا، تو یاد رکھیں
یہ احتجاج شکایت نہیں رہے گا، یہ تاریخ کا فیصلہ بن جائے گا۔
بلوچستان زندہ ہے،
بلوچستان کے عوام بیدار ہیں
اور ہم اپنے حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

