آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام فاطمہ اعجاز اور طحہ کیہر کی تخلیق اور دوستی پر مبنی خطوط کے مجموعے “Story Circle ” کی تقریبِ رونمائی

کراچی ( رپورٹر)آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام فاطمہ اعجاز اور طحہ کیہر کی تخلیق اور دوستی پر مبنی خطوط کے مجموعے “Story Circle ” کی تقریب رونمائی جوش ملیح آبادی لائبریری میں منعقد کی گئی ، ۔ تقریب میں طحہ کیہر اور فاطمہ اعجاز نے گفتگو کی فاطمہ اعجاز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اظہارِ خیال کیا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض سید کاشف رضا نے انجام دیے۔اس موقع پر ویڈیو لنک کے ذریعے فاطمہ اعجاز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا تعلق شاعری سے ہے اور جس شخص سے بھی ان کا رابطہ ہوتا ہے، وہ کسی نہ کسی سطح پر ان کے فن سے متاثر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق یہ تصور درست نہیں کہ فن ایک الگ یا نجی شے ہے، کیونکہ فن اور زندگی کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی شاعری اور تحریر ہی ان کی اصل شناخت ہے اور وہ ایک طویل عرصے سے لکھنے کے عمل میں مصروف ہیں اور نت نئے تجربات کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں لفظوں سے کھیلنا پسند ہے اور فن روزمرہ کی گفتگو، تعلقات اور انسانی روابط کا حصہ ہے۔ تخلیق کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے اور شاعری ایک ایسی طاقت ہے جس کے ذریعے وہ باتیں بھی لکھی جا سکتی ہیں جنہیں لوگ عام طور پر بیان نہیں کر پاتے۔ ان کے مطابق شاعر ہونا کوئی اضافی شناخت نہیں بلکہ یہی اصل شناخت ہے، اور حقیقی لکھنے والا وہی ہے جو کسی دوہری زندگی کے بغیر لکھتا ہے۔ طحہ کیہر نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دراصل ایک خیالی مکالمہ ہے، جو ایک ایسے دوست کے ساتھ ہے جس سے اب زیادہ رابطہ نہیں رہا اور جو اب ایک مختلف دنیا میں موجود ہے۔ کہانی میں مصنف یہ تصور کرتا ہے کہ وہ دوست اس کے کام پر سوالات اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اعتراض بارہا سامنے آیا کہ کتاب میں مردوں کو عورتوں کے مقابلے میں زیادہ منفی انداز میں پیش کیا گیا ہے، جس پر سوال اٹھایا گیا کہ ایسا کیوں ہے۔طحہ کیہر کے مطابق اس کی وجہ ان کی پرورش ہے، کیونکہ ان کے گھر میں زیادہ تر خواتین تھیں، جن میں والدہ، بہن اور خالائیں شامل ہیں۔ اسی باعث انہیں عورت کی نفسیات کو سمجھنا نسبتاً آسان جبکہ مردوں کی نفسیات کو سمجھنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ آج بھی مردوں کے بعض رویے ان کی سمجھ سے باہر ہیں اور اس حوالے سے ایک ذہنی رکاوٹ موجود ہے، تاہم انہیں امید ہے کہ یہ رکاوٹ وقت کے ساتھ ٹوٹے گی۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت وہ مردانہ دوستی کے موضوع پر ایک ناول لکھ رہے ہیں، جس کے لیے انہیں باقاعدہ تحقیق کرنا پڑ رہی ہے، جبکہ عورتوں پر لکھے گئے ناولوں کے لیے انہیں کبھی تحقیق کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ تقریب میں ادبی، سماجی اور علمی حلقوں سے تعلق رکھنے والی بڑی تعداد موجود تھی.

اپنا تبصرہ بھیجیں