اے این پی کی جنگ پختون قوم،بچوں، مٹی اور بنیادی حقوق کے حصول کے لیے ہے،سردار حسین بابک

صوابی (این این آئی)اے این پی کے مرکزی سیکرٹری برائے خارجہ امور و سابق صوبائی وزیر اطلاعات و تعلیم سردار حسین بابک نے واضح کیا ہے کہ اس وقت اے این پی کی عملی جنگ پختون قوم، ان کے بچوں، مٹی اور بنیادی حقوق کے حصول کے لیے ہے اور اس عملی جنگ کو جیتنے کے لیے سارے پختونوں اور نوجوانوں کو اب بیدار ہونا ہوگا اس اتحاد و اتفاق کے بغیر کام نہیں ہوسکتا ہے، یونین کونسل مانیری پایاں کھنڈروں میں درجنوں نوجوانوں کی اے این پی میں شمولیت اختیار کرنے کے موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 13 سالہ دور حکومت میں پی ٹی آئی نے صوبہ خیبرپختونخوا کو اقتصادی اور معاشی طور پر تباہ برباد کر دیا، صوبے میں تجارت اور کاروبار ٹھپ ہوگیا ہے اگر کاروبار ہے تو وہ صرف ” انڈر پلی،، کا کاروبار ہے، صوبے میں سرمایہ کار نہیں آرہے ہیں بلکہ صوبے کا سرمایہ پنجاب، اسلام آباد اور راولپنڈی منتقل ہورہا ہے، خیبرپختونخوا صوبے سے ڈرامہ اور سب سے بڑا تجربہ گاہ بنایا گیا ہے، اسی طرح اگر صوبے سے دہشتگردی کے خاتمے کی بات آتی ہے تو پی ٹی آئی کی حکومت اور ذمے دار”” شپ شپ،اگر مگر،” چونکہ چنانچہ، کرتے میدان میں عملی بات نہیں کرتے ہیں، 13 سالوں سے مسلط ایسے حکمران پاکستان سمیت دنیا بھر میں کسی نے نہیں دیکھے ہوں گے، گذشتہ چار مہینوں سے پاک افغان سرحد بند ہونے کی وجہ سے نہ صرف دونوں ممالک کی تجارت بند ہونے سے نقصان ہورہاہے بلکہ میڈیکل اور نان میڈیکل کے چار ہزار پاکستانی طلبہ افغانستان میں پھنس چکے ہیں، جو گھر نہیں آسکتے ہیں، افغانستان ہمارا ہڑوسی ملک ہونے کے علاوہ ایک زبان، خون، رشتہ، مذہب اور ایک قوم کے لوگ ہیں لہذا دونوں ممالک کے درمیان دوستی، اعتماد، تعلقات اور تجارت کو برابری کی بنیاد پر بحال کئے جائیں، اگرچہ پنجاب کی وزیر اعلی ایک خاتون ہیں لیکن اس نے صحت، تعلیم، روزگار، مواصلات اور دیگر شعبوں میں جو عملی اقدامات اور منصوبے شروع کردی ہیں، اس نے خیبرپختونخوا کو کافی پیچھے چھوڑ دیا اس کے برعکس پی ٹی آئی کی حکومت عوام کا مذاق اڑاتے ہیں کبھی عوام بکریاں، بچھڑے، مرغیاں اور انڈے دینے کے جھوٹے اعلانات کرتی ہیں صوبے کے سارے ہسپتالوں کو ایم ٹی اے کرکے سرکاری سینئیر ڈاکٹرز ریٹائرمنٹ لے رہے ہیں سرکاری ہسپتالیں ڈاکٹروں اور ادویات سے خالی ہونے پر خیبرپختونخوا کے لوگ علاج کے لیے پنچاب کے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، پی ٹی آئی کی قیادت نے سیاست میں بدرنگی پیدا کردی ہے، سیاست میں اختلافات کا اظہار احترام کے جذبے کے ساتھ ہوتا ہے لیکن پی ٹی آئی کے ذمے داروں نے سیاست میں اخلاقیات کا جنازہ نکال کر بدرنگی پیدا کی ہے، اور اس میں نوجوان نسل کے اخلاق کو تباہ کیا، تیرہ سالہ دور میں بجلی رائلٹی، واجبات، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کی پوچھ سکے نہ ہی صوبے میں کوئی ایک یونیورسٹی، کالج، سکول، ہسپتال، موٹر وے یا اور کوئی میگا پراجیکٹس لا سکے، 2008 میں اے این پی نے اقتدار میں آکر نہ صرف دہشت گردی، سیلاب کا سامنا کیا بلکہ صوبے میں نامساعد حالات کے باوجود ترقی کا تاریخی عمل شروع کر دیا، مخالف سمجھ گئے اور ہم نے ثابت کیا کہ سرخ جھنڈے کی 95 سال سیاسی جدوجہد کا راستہ غلط نہیں ہوا بلکہ آج بھی ورکرز کا اعتماد سرخ جھنڈے، لیڈر شپ اور نظرئیے پر ہیں، آج عصر کے بعد کوہاٹ سے وزیرستان تک سرکاری ملازمین کو باہر نکالنے کی اجازت تک نہیں، صوبے میں پی ٹی آئی دہشتگردوں کی سہولت کاری اور بھتے دے رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں