بلدیہ کراچی میں مبینہ کرپشن، نیب زدہ افسران اور جعلی لیزوں کا انکشاف

کراچی (اسٹاف رپورٹر) بلدیہ عظمی کراچی میں سزا یافتہ ہو یا لیب اٹینڈنٹ سے افسر بن گیا ہو۔عدالتوں کو گمراہن کررہا ہو قانون کی دھجیاں بکھیررہا ہو۔ نیب سے ضمانت پر ہو۔ چومکھی کا کھیل اور بدعنوانی لوٹ کھسوٹ کا کھیل زوروں پر ہے۔ جعلسازیاں کرکے عمریں کم کرنے والے سروس ریکارڈ بدلنے والے 66.66سال کے ہوکر سربراہ محکمہ بنے ہوئے ہیں۔ جس میں نیب زدہ افسران پیش پیش ہیں۔ سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم سیف عباس حسنی کے کرپشن کے قصے زبان زدہ عام ہیں۔ تعیناتی اور ترقی اور وزیر اعلی کے اختیارات کیڈر بدلنے اور ڈی پی سی پر افضل زیدی کے ساتھ ملکر اربوں روپے کا کرپشن، فیصل رضوی کی جعلسازیوں میں شراکت داری، کرپشن میں ساجھے داری میں انکا ریکارڈ دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگایا جاتا ہے۔ مہ کدہ کی شب اور گالیوں سے بات کرنے ماضی میں انکے کارنامے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں فیڈل بی ایریا سے ڈیفنس کی کرپشن کی داستان بھی سب کو معلوم ہے۔ سیکٹر انچارج سے مرکز تک اربوں کے گیم، کرمنل ریکارڈ بھی اداروں کے ریکارڈ پر ہے۔ تفصیلات کے مطابق سیف عباس نیب زدہ افسر کی دیدہ دلیری۔ وول واشنگ کیس میں دو سال سزا کاٹنے کے باوجود پرانی تاریخوں میں ویری فیکیشن دی جا رہی ہے۔ بادبان ڈیفنس بنگلہ میں کام اتارنے کا بھونڈا کھیل جاری۔ کے ایم سی سے الگ اور سینئر ڈائریکٹر کے ڈی اے اورکے ایم سی پر کھیل جاری ہے۔ بنگلے میں سب رجسٹرار، پیش کار اور ساری سرکاری مشینری انکی غلام بن کر انکے کاموں کا حصہ ہے۔انکے دست راست چیف فائر افسر ہمایوں خان کی کرپشن سعد صدیقی مہرہ ہیں جو مئیر کراچی کے بھائی ہیں۔ تمام ٹھیکوں۔ پٹرول اور مرمت و دیگر فنی کام سعد صدیقی کے علاوہ کوئی نہیں کرتا۔ سوشل ویلفیئر اسپورٹس بھی اسی کے سپرد ہے۔ دوسری جانب وزیر بلدیات، وزیر اعلی اور چیف سیکریٹری کے اختیارات بھی جس میں کیڈر خود ہی سیف عباس کو بھاری رشوت دے کر بدل ڈالا اپنے سالے کو اسسٹنٹ اسٹور کیپر سے فائر افسر، ڈرائیور کو فائر افسر بنا کر پانچ اسٹیشن دے ڈالے۔ ان ٹرینڈ فائر اسٹاف شہر کے لئے خطرہ۔ ہمایوں خان سفارشی اور ان ٹرینڈ ہیں۔ وزیر بلدیات، وزیر اعلی اور چیف سیکریٹری کے اختیارات میونسپل کمشنر افضل زیدی اور سیف عباس استعمال کرتے رہے ہیں اور یہ گھناونا کھیل جاری ہے وسیم اختر کے دورانیہ مئیر شپ کی تاریخوں میں دو سو افراد کروڑوں روپے لے کر ہمایوں خان، سیف عباس، ٖافضل زیدی، مسرت علی خان اور میئر کی ٹیم معظم قریشی نے نمٹا دیئے۔ جمیل فاروقی کے جعلی دستخط کئے گئے جو ریٹائرڈ ہو چکے ہیں کیونکہ میڈیا نے تسنیم احمد کے جعلی دستخطوں کی رپورٹ قبل از وقت بتادی تھی۔ جس پر تسنیم احمد نے پے رول۔ ایچ آر ایم فائر بریگیڈ میں دھوم مچادی تھی۔پیپلز آفیسرز ایسوسی ایشن کے صدر غازی کو ثبوت کی فراہمی کے باوجود 7فروری کو ریٹائرڈ کیا جا رہا ہے جبکہ وہ کئی سال مذید سروس کے اہل ہیں۔ سیف عباس نے انکے لئے ایمانداری کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔ لیکن مختلف اداروں نے سیف عباس، سہیل احمد، رضا عباس رضوی، عدنان زیدی۔ فیصل رضوی، سمیرا حسن، آفتاب قائم خانی، معظم قریشی، عباس رضا زیدی، عارف قاضی، عدنان قریشی، ناصر رزاق، عمیر علی عمیر برنی، جمال اختر اور متعدد افسران کے گرد گھیرا تنگ کردیا ہے۔ جبکہ ٹیسٹ کیس کے طور پر وول واشنگ لانڈھی سلاٹر ہاؤس اور اطراف کی زمینیں اور بلدیہ یوسف گوٹھ بس ٹرمینل کی زمین، بے نظیر اسٹیڈیم، فائر بریگیڈ، نو ہزارایکڑ فتنہ الہندوستان کو گلشن ضیاء اور منگھو پیر میں دینے، ٹھیکوں میں گھپلوں، جعلی آکشن کی تحقیقات نیب کے علاوہ دیگر ادارے بھی کر رہے ہیں۔ سہولت کار پولیس، اینٹی کرپشن اور دیگر ککے گرد بھی گھیرا تنگ ہے۔ یو سی ڈی کی جعلسازی سے فیصل رضوی، عارف قاضی کی لیزیں، ناصررزاق کی جعلسازی کی لیزیں جو آفاق مرزا کے جانے کے بعد انکے ساتھ جعلسازی کرکے کی گئیں وہ بھی سامنے آگئی ہیں۔ بلدیہ کراچی کی مارکیٹوں اور دس سال سے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی کرپشن بھی سامنے آگئی ہے چالان پر چالان اور فیصل رضوی کی ہٹنے کے بعد 250مووٹیشن، ٹرانسفر لیٹر جعلی نقشے، جمال اختر کی کارستانیاں اور ریکارڈ غائب کرکے کارنامے انجام دینے میں فراز شیخ کی سپورٹ بھی سامنے آگئی ہے جو نیا کام کرنے کے بجائے پرانی وکٹ پر کھیل رہے ہیں جس میں عارف قاضی، عدنان قریشی نے مکمل ساتھ دیا۔ رجسٹرز غائب ہیں۔ فراز شیخ نے پرانے افسران پر کہانی ڈال کر ماضی کاکھیل کھیلا۔ لیکن انکے خلاف مزکورہافسران اینٹی کرپشن سے رجوع کر چکے ہیں کچی آبادی کے انکے غبن اور کرپشن کے ثبوت ایک گرفتار ملازم نے فراہم کردی ہے۔ان پر نوازشات کچی آبادی، سینئر ڈائریکٹر اورنگی سمیت متعدد جعلی انکوائریز میں بھی انہیں رکھا جاتا ہے وہ مکمل سسٹم افسر اور جونیئر ترین افسر ہیں اور او پی ایس پر کئی چارج لے کر بیٹھے ہیں وہ بھی واچ لسٹ میں آچکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں