کوئٹہ(این این آئی)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی نائب امیر اور جے یو آئی ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالرحمن رفیق،صوبائی معاون سیکرٹری و ضلع کوئٹہ کے ناظم عمومی حاجی عین اللہ شمس، مولانا خورشید احمد، حاجی بشیر احمد کاکڑ، مولانا عبدالاحَد مولانا محمد ایوب ایوبی ،سید عبدالواحد آغا،مولانا محمد سلیمان، حافظ شبیر احمد مدنی،عبدالغنی شہزاد، حاجی ولی محمد بڑیچ، عبدالباری شہزاد، مولانا جمال الدین حقانی رحیم الدین ایڈووکیٹ،حافظ محمد عارف شمشیر،عبدالصمد حقیار، صفی اللہ مینگل اور دیگر رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان کہاہے کہ ہم واضح اور دوٹوک الفاظ میں اس امر کا اعلان کرتے ہیں کہ اگر 8 فروری 2024 کو عوام کے حقِ رائے دہی پر ڈاکہ نہ ڈالا جاتا، اگر قوم کے فیصلے کو نادیدہ قوتوں کے ہاتھوں یرغمال نہ بنایا جاتا، تو آج بلوچستان بالخصوص کوئٹہ اس سنگین بدامنی، خونریزی اور عدم تحفظ کی صورتحال سے ہرگز دوچار نہ ہوتا۔ملکی سطح پر بالعموم اور بلوچستان میں بالخصوص عوام کی رائے کو روند کر، عوامی حمایت سے محروم ڈمی اور مسلط کردہ افراد کو اقتدار میں لایا گیا، جس کا خمیازہ آج معصوم شہری، نہتے عوام اور فرض شناس سیکیورٹی اہلکار اپنے خون سے ادا کر رہے ہیں۔ یہ خون کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مسلسل سیاسی جبر، انتخابی دھاندلی اور عوامی مینڈیٹ کی توہین کا انجام ہے۔جمعیت علماء اسلام اس حقیقت کو پوری ذمہ داری سے دہراتی ہے کہ اگر بلوچستان میں حقیقی، شفاف اور آزاد انتخابات ہوتے، اگر عوام کے ووٹ سے ان کی حقیقی نمائندہ جماعتیں منتخب ہو کر اقتدار میں آتیں، تو آج صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں دن دیہاڑے دہشت گرد شہر کے وسط میں دندناتے نہ پھرتے، نہ ہی ریڈ زون می داخل ہوکر کاروائی کرتے اور نہ ہی کوئٹہ کیشہری خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے۔آج کی بدامنی، سیکیورٹی کی ناکامی اور ریاستی رِٹ کی کمزوری دراصل 8 فروری 2024 کے انتخابی جرم کا تسلسل ہے، جس نے عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کی آخری دیوار بھی گرا دی ہے۔ عوامی مینڈیٹ کو پامال کرنے والے عناصر کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ بندوق، طاقت اور مسلط کردہ نظام سے نہ امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی ملک کو استحکام مل سکتا ہے۔اسی تناظر میں جمعیت علماء اسلام کیمرکزی اور صوبائی قیادت کے فیصلے کے مطابق 8 فروری کو ضلع کوئٹہ میں یومِ سیاہ بھرپور انداز میں منایا جائے گا۔ یومِ سیاہ کے موقع پر احتجاجی مظاہرے کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کی توہین،جمہوریت کے قتل اور بلوچستان کو بدامنی کی آگ میں جھونکنے کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔یومِ سیاہ کے احتجاجی مظاہرے کو منظم اور کامیاب بنانے کے لیے ضلعی امیر مولانا عبدالرحمن رفیق نے جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے ماتحت تمام تحصیلوں اور یونٹس کے امراء اور نظماء عمومی کا مشترکہ اجلاس بروز جمعرات 5 فروری ظہر 2 بجے کو اینگل روڈ، کوئٹہ میں طلب کر لیا ہے۔جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس نے تمام ذمہ داران کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ بروقت اجلاس میں شرکت کو یقینی بنائیں اور یومِ سیاہ کے احتجاج کو فیصلہ کن، مؤثر اور عوامی طاقت کا مظہر بنائیں۔جمعیت علماء اسلام واضح کرتی ہے کہ وہ عوامی حقِ حکمرانی، آئین کی بالادستی اور بلوچستان کے امن کے لیے ہر آئینی، جمہوری اور احتجاجی راستہ اختیار کرے گی، اور عوام کے فیصلے پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے سامنے ہرگز سرِ تسلیم خم نہیں کرے گی۔

