کراچی(این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز (پی پی پی پی)کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کی رائے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس رائے نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے اور پاکستان کی تاریخ کے ایک سیاہ ترین باب کی درست سمت نشاندہی کی ہے۔اپنے بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح طور پر قرار دیا ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا ٹرائل آئین، قانونی تقاضوں اور منصفانہ سماعت کے بنیادی حق کی صریح خلاف ورزی میں کیا گیا۔ عدالت کے مشاہدات سے یہ حقیقت سامنے آ گئی ہے کہ آمرانہ دور میں شفافیت، قانون اور انصاف کو جان بوجھ کر پامال کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جسٹس محمد علی مظہر کی رائے اس امر کو ثابت کرتی ہے کہ بعض ججوں کے ذاتی تعصبات اور بدنیتی نے عدلیہ کی آزادی کو شدید نقصان پہنچایا اور غیر جانبدار فیصلہ ناممکن بنا دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مارشل لا کے دوران اس کیس کو غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر دوبارہ کھولا گیا، جس کا واحد مقصد ایک آمر کی ذاتی انتقامی خواہش کو پورا کرنا تھا، جس کی کوئی قانونی یا آئینی بنیاد موجود نہیں تھی۔شازیہ مری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سے یہ مقف اختیار کرتی آئی ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو قانون کے تحت پھانسی نہیں دی گئی بلکہ عدالتی نظام کے غلط استعمال کے ذریعے قتل کیا گیا۔ ایک سفاک آمر نے اپنے سہولت کاروں کے ساتھ مل کر عدالتوں کو استعمال کرتے ہوئے ملک کے مقبول ترین اور دوراندیش رہنما کو راستے سے ہٹایا۔انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے تاریخی الفاظ یاد دلاتے ہوئے کہا:میں تاریخ کے ہاتھوں مرنیکے بجائے ایک فوجی آمر کے ہاتھوں تباہ مرنا پسند کروں گا۔شازیہ مری نے کہا کہ یہ الفاظ شہید بھٹو کے کردار کی عکاسی کرتے ہیں، جو سمجھوتے کے بجائے شہادت اور غلامی کے بجائے عزت کو ترجیح دینے والے رہنما تھے۔ آمریت کے سامنے سر نہ جھکا کر شہید بھٹو نے یہ ثابت کیا کہ تاریخ انہیں سرخرو اور ان کے قاتلوں کو رسوا کرے گی۔انہوں نے کہا کہ آمر اور اس کے ساتھیوں نے صرف شہید وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف نہیں بلکہ جمہوریت، آئین، وفاق اور عوام کی خودمختار رائے کے خلاف سازش کی۔ اس سازش نے ریاستی اداروں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا اور ملک کو طویل سیاسی عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا، جس کے اثرات آج بھی پاکستان بھگت رہا ہے۔پی پی پی کی ترجمان نے کہا کہ سپریم کورٹ کی رائے نے بھٹو خاندان اور ملک بھر کے لاکھوں جیالوں، کارکنان اور جمہوری قوتوں کو طویل عرصے بعد اخلاقی، تاریخی اور سیاسی انصاف فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ نے ثابت کر دیا ہے کہ ظلم کسی فرد کو تو ختم کر سکتا ہے، مگر کسی نظریے کو کبھی ختم نہیں کر سکتا۔شازیہ مری نے مزید کہا کہ تخت دار کے باوجود شہید ذوالفقار علی بھٹو کا عوامی حاکمیت، آئینی بالادستی اور سماجی انصاف کا فلسفہ آج بھی زندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی رائے آمریت کے خلاف ایک مضبوط فردِ جرم اور اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ سچائی میں تاخیر ہو سکتی ہے، مگر اسے شکست نہیں دی جا سکتی۔

