کراچی (اسٹاف رپورٹر) گل پلازہ سانحہ کی ذمہ داری پر تحقیقات ہو رہی ہے لیکن اصل کردار اب بھی محفوظ ہیں۔ ان ٹرینڈ سفارشی چار گریڈ میں بھرتی سیاسی اور سفارشی رشوت ستانی کے زور پر چیف فائرافسر ہمایوں خان نے اپنی ریاست قائم کر رکھی ہے۔ تفصیلات کے مطابق چیف فائر افسر کی کرپشن سامنے آگئی۔ وسیم اختر کے دور میں دیئے گئے فائر ٹینڈرز کو برباد کردیا گیا ناکارہ بنا دیا گیا۔ پارٹس بیچ دیئے گئے۔ بلدیہ کراچی کا شعبہ قومی ادارہ اربن ریسرچ اینڈ ریسکیو (USAR)میں قیمتی کتے جو کرائم اور ڈیزاسسٹر میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ مسعود عالم اور ہمایوں خان ہر سال دو کروڑ روپے کا بجٹ کھاتے رہے کتوں کی افزائش اورخوراک کا خیال نہیں رکھا گیا۔ جس سے وہ لاکھوں روپے کے کتے مرگئے۔ لیکن بجٹ کلیم ہوتا رہا۔ہمایوں خان کی 1991میں گریڈ 4میں تقرری ہوئی۔ گریڈ 12میں 2016میں سب فائر افسر بنے۔ ماروائے قانون 12سے17گریڈ دے دیا گیا۔ 2024میں گریڈ 18میں ترقی دے کر ٹیم لیڈر بنا دیا گیا۔ 2025میں 19گریڈ دے دیا گیا۔ تربیت یافتہ نہ ہونے کے باوجود ادارے کو تباہ کرنے اور انسانی جانوں سے کھیلنے کا مذموم کھیل ایک ایسے افسر کے ہاتھ میں ہے جو فائربریگیڈ کی ٹریننگ سے ناواقف ہے اور اس نے اپنے داماد اور منظور نظر افراد کو پانچ پانچ اسٹیشن کا چارج دے رکھا ہے جبکہ ڈرائیور کو ترقی دلواکر 5اسٹیشن دے دیئے گئے جس کا نتیجہ گل پلازہ آتش زدگی میں نظر آیا۔ اٖفضل زیدی، سیف عباس نے یہ کھیل کھیلا اور ترقیاں بھاری رشوتیں لے کر دیں۔ جبکہ سینارٹی پر فیصلے نہیں کئے گئے۔ ڈی پی سی تھری کے لئے ایک کروڑ روپے دیئے گئے۔ گل پلازہ کے مرکزی کردار ہمایوں خان کو معطل کیوں نہیں کیا گیا؟کرپٹ ٹیم کی افضل زیدی نے موجیں کرادیں، قانون پاؤں تلے روند ڈالا، نیب زدہ سیف عباس کے لئے 20گریڈ کی ڈی پی سی بھیج دی۔ نیب سے سزا یافتہ طاہر درانی کو پنشن دے دی گئی چیک جاری۔ نیب زدہ صباح الاسلام کی بھی 20گریڈ کی جعلی ڈی پی سی، عزرامقیم کی ریٹائرمنٹ سے پہلے 20گریڈ کی جعلی ڈی پی سی اور پوسٹ کریشن، عدنان زیدی کی جعلسازیاں عروج پر،کرپٹ افسران کی تیزیاں، مئیر کراچی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی تیاریوں کے بعد تیزی سے کام نمٹانے کا آغاز۔ سیف عباس نے چیئرمین ڈی پی سی ٹو اور تھری کی حیثیت سے جعلی دستخط کرکے کروڑوں روپے کی وصولی کرکے ڈی پی سی نمٹا دی۔ بلدیہ کراچی میں ٹرینڈ اسٹاف موجود نہیں۔ او پی ایس افسران، لینڈ میں ان ٹرینڈ اسٹاف نے زمینیں نمٹا دیں۔سیف عباس، سہیل احمد، فیصل رضوی، رضا عباس رضوی، عدنان زیدی، عارف قاضی گٹھ جوڑ۔ بس ٹرمینل اور مارکیٹوں میں پلاٹنگ اور خرید و فروخت کا الگ کھیل جاری ہے۔ جبکہ سینئر فائر افسر نے انکشاف کیا کہ کئی سالوں سے وردیوں کے پیسے اور گاڑیوں کی مرمت کے نام پر کروڑں روپے کھا لئے گئے ہیں۔ مئیر وسیم اختر کو حقائق سے آگاہ کیا تھا۔ لیکن قیمتی جدید فائر ٹینڈرز مسعود عالم کے ساتھ ملکر ٹھکانے لگا دیئے گئے۔ سعد صدیقی اب لوٹ مار، پٹرول ڈیزل اور مرمت اور دیگر مدوں میں لوٹ مار کر رہا ہے۔ تین سو ملازمین آدھے پر چھوڑے ہوئے ہیں۔جبکہ رشوت کے عوض ڈی جی ایس بی سی اے، چیف فائر افسر، ڈی جی واٹر بورڈ، سینئر ڈائریکٹر اسٹیٹ، ڈپٹی کمشنر جنوبی، اسسٹنٹ کمشنر، مئیر کراچی، میونسپل کمشنر کو معطل نہیں کیا گیا۔ ڈی پی سی تھری کو ایکشن کمیٹی چیلنج کر رہی ہے اور سیف عباس کی رشوت ستانی کے ثبوت بھی دیئے جا رہے ہیں۔ سہیل سومرونے وصولی مہم شروع کر رکھی ہے جبکہ محسن شیخ نے افضل زیدی کے جاتے ہی فون کراکے گڈاپ میں جوائننگ دے دی ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ جماعت اسلامی نے مئیر کی چارج شیٹ میں تمام ثبوت اور کرپشن کی رپورٹ جمع کرلی ہے۔ مئیر کراچی کو فارغ کرنے کے لئے پی ٹی آئی اور کئی جماعتوں نے خفیہ رابطے کر لئے ہیں اور آٹھ فروری کے بعد میئر کی تبدیلی کا مکمل پلان عمل درآمد کیا جائے گا۔

