کوئٹہ(این این آئی) وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان محمدحمزہ شفقات نے کہا ہے کہ بلوچستان میں 31جنوری 2026کے حملوں کے بعد216دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے، حملوں میں 36عام شہری اورسیکورٹی فورسز کے 22جوان شہید ہوئے،صوبے میں نوشکی کے علاوہ تمام علاقوں اور شاہراہوں پر حالات قابو میں ہیں، پولیو مہم جاری جبکہ آٹھویں،نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات بھی معمول کے مطابق ہونگے۔ یہ بات انہوں نے صوبائی وزراء حاجی علی مدد جتک، میر شعیب نوشیروانی،بخت محمد کاکڑ، پارلیمانی سیکرٹری ولی محمد نورزئی، حیات خان اچکزئی کے ہمراہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔شاہد رند نے کہا کہ بلوچستان میں 31جنوری 2026کو دہشتگردوں کے حملوں کو ناکام بنایا گیا جبکہ نوشکی میں حالات قابو کرنے میں کچھ وقت لگا۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں سرچ اینڈ کامبنگ آپریشنز جاری ہیں اس دوران 100 سے زائد مشکوک افراد کو حراست میں لیکر اسلحہ، آر پی جی، اینٹی ائیر کرافٹ گنز برآمد کرلی گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کے آپریشن میں 2دہشتگرد خواتین بھی ہلاک ہوئی ہیں جبکہ دہشتگردوں نے تین شہری خواتین کو بھی شہید کیا جبکہ ہلاک ہونے والے دیگر دہشتگردوں کو کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ جن خاندانوں کے لوگ دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ منسلک ہیں انہیں بھی متنبہ کیا گیاہے کہ وہ اس بارے میں ریاست کو معلومات فراہم کریں بصورت دیگر ان کے خلاف بھی قانونی کاروائی عمل میں لائی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں نوشکی کے علاوہ تمام علاقوں میں معمولات زندگی بحال ہیں آٹھویں، نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات بھی شیڈول کے مطابق ہونگے، نوشکی کے علاوہ صوبے بھر میں انسداد پولیو مہم بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریڈزون پر دہشتگردوں کے حملے میں جب تک دہشتگرد نے اپنے آپ کو اڑایا نہیں تب تک سیکورٹی فورسز کے جوانوں نے مقابلہ کیا جبکہ حملہ پورے ریڈ زون پر کیا گیا تھا جسے ناکام بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نوشکی اور کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں فورسز نے کولیٹرل ڈیمج کو کم سے کم کرنے کے لیے احتیاط سے کاروائی کر رہی تھیں جس کی وجہ سے علاقوں کو کلیئر کرنے میں وقت لگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب موبائل انٹرنیٹ سروس بحال کردی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ تھانوں پر حملے کرنے والے افراد کی شناخت کرلی گئی ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ بلوچستان محمد حمزہ شفقات نے کہا کہ سپرینٹنڈنٹ نوشکی جیل کی حالت خطرے سے باہر ہے، بلوچستان کے 2 جیلوں پر حملے ہوئے ہیں، جیلوں سے فرار ہونے والے قیدیوں کی تلاش جاری ہے۔ صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ 31 جنوری کو بلوچستان کے 12 مقامات پر حملے تمام زخمیوں کو تمام سہولیات فراہم کی گئیں۔

