کراچی(این این آئی) سندھ ہائی کورٹ میں گزشتہ تین روز کے دوران دوعلیحدہ علیحدہ اور مجموعی طور پر 25 سے زائد ٹی ایم سیز کے ریٹائر ملازمین نے مارچ اورمئی 2025 میں دائر پیٹشنزپر فیصلہ دیا تھا کہ ٹی ایم سیز کے 2027 تک ریٹائر ہونے والے ملازمین کو کے ایم سی پینشن اور واجبات ادا کرے گی اور اس سلسلے میں فنڈز کی کمی کو حکومت سندھ پورا کرکے کے ایم سی کو جاری کرے گی۔جس پر وزیراعلی سندھ کی منظوری سے 20 کروڑ ماہوار کی گرانٹ جاری کی گئی تھی۔جس سے پہلے ماہ 1012,دوسرے ماہ 1559 اور اس ماہ 2000 ریٹائرملازمین کو پینشن جاری کی گئی ہے۔جبکہ یہ تعداد 2850 سے زائد ہے۔اس طرح ابھی 850 سے زائد ریٹائر ٹی ایم سیز ملازمین ماہوار پینشن سے 2023 سے محروم ہیں۔جبکہ پراونڈنٹ فنڈ،پینشن کمیوٹیشن ان 2850 میں سے ایک بھی ریٹائر ملازم کو ادا نہیں کی گئی ہے۔جس پر یہ ریٹائر 25 سے زائد ملازمین کی دو علیحدہ علیحدہ توہین عدالت کی پیٹیشنز کے سماعت ہوئی۔جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ،میئر کراچی اور میونسپل کمشنر کے ایم سی کو ذاتی حیثیت میں کمپلائنس رپورٹ کے ہمراہ طلب کیا ہے۔سجن یونین کے صدر سید ذوالفقارشاہ نے کہا ہے کہ 2015 میں سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر کمشنر کراچی کی سربراہی میں اٹارنی جنرل پاکستان کے طویل مشاورت کے بعد کی گئی ایس اوپی پر سیکریٹری لوکل گورنمنٹ،سیکریٹری فنانس،سیکریٹری ایکسائز،ٹریڑری آفیسر کراچی،تمام ایڈمنسٹریٹرزکے ایم سی،ڈی۔ایم۔سیزنے دستخط کرکے عدالت نے اس کی منظوری دی تھی۔جسکے ضامن کمشنر کراچی تھے۔اور یہ SOP عدالت کے حکم پر تیار اس وقت 2016 میں کی گئی تھی جبکہ یہ۔موجودہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 موجودتھا۔اب 10 برس کے بعد میئر کراچی کو اس ایکٹ کی دفعہ 125 یاد آئی اور انہوں نے ٹی ایم۔سیز کے ریٹائر ملازمین کو پینشن اور واجبات کی ادائیگی سے روک دیا۔حالانکہ اس SOPکیتحت ہی کے ایم سی کو اسپیشل گرانٹ،ایڈیشنل گرانٹ اور پینشن کنٹری بیوشن کی۔مد میں ایک ارب 20 کروڑ روپئے اوذیڈ ٹی گرانٹ کے علاوہ جاری کیے جارہے ہیں اس کے باوجود مذید 20 کروڑ صرف پینشن کے لیے اور انکیواجبات کیلیے 6 ارب روپئے طلب کیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریٹائر ملازمین کی دائر پیٹیشنز میں فریق بننے کیلیے سجن یونین تیاری کررہی ہے۔تاکہ عدالت کی۔اس سلسلے میں۔معاونت کی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ سپریم۔کورٹ کے فیصلے کے تحت ایک ملازم کے حق میں۔کیے گئے فیصلے پر اسی نوعیت کے دیگر متاثرہ ملازمین پر بھی عمل کیا جائے گا۔لہذا تمام ریٹائر ٹی ایم۔سیز ملازمین پر ان فیصلوں کا اطلاق کیا جائے۔اور کے ایم سی کو دیئی گئی گرانٹ کا مکمل حساب لیکر اگر مزیدرقم کی ماہوار پینشن کیلیے ضرورت ہے تو اسے فنڈز جاری کیے جائیں اورواجبات کی۔ادائیگی کیلیے 13 ارب کی رقم جاری کی جائے۔

