نارووال (این این آئی)وفاقی وزیر منصوبہ بندی،ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہاکہ تفریحی پروگرامز کا انعقاد صحتمند اور خوشحال معاشرے کے قیام کیلئے نہایت اہم ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہیلتھ اینڈ پاپولیشن کے زیر اہتمام ایجوکیشن و فیملی پلاننگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف کی طرف سے ثقافتی اور تفریحی پروگرامزکے انعقادسے شہریوں کو مکمل تفریح اور لطف اندوزکرنے کاباعث بن رہے ہیں۔ ایسے آگاہی پروگرامز کا انعقاد صحت مند اور خوشحال معاشرے کے قیام کیلئے نہایت اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ تفریح اور تعلیم کو یکجا کرکے عوام تک مثبت اور موثر پیغام پہنچایا جا رہا ہے۔انہوں نے لڑکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ انسانی تاریخ کی سب سے فیصلہ کن صدی میں زندگی گزار رہی ہیں۔یہ پہلی بار ہے کہ صرف جغرافیہ قسمت کا فیصلہ نہیں کرتا۔یہ پہلی بار ہے کہ محض انسانی قوت ہی اصل طاقت نہیں رہی۔یہ پہلی بار ہے کہ قدرتی وسائل سے زیادہ انسانی ذہانت اہم ہو چکی ہے۔آج تلونڈی بھنڈراں میں بیٹھی ایک لڑکی جس کے پاس لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ اور پختہ عزم ہو، دنیا کے بہترین اذہان سے مقابلہ کر سکتی ہے۔لیکن میں آپ سے پوری دیانت داری کے ساتھ بات کرنا چاہتا ہوں۔یہ صدی ان لوگوں کے لیے مہربان نہیں ہوگی جو الجھنوں اور کم ظرفی کا شکار، سست، خوف زدہ یا تیار نہ ہوں۔یہ صدی صرف انہیں آگے بڑھائے گی جو مہارت سے آراستہ، ڈسپلن کے پابند اور جستجو کرنے والے باہمت ہوں گے۔احسن اقبال نے کہا کہ کیا ہم اپنی بیٹیوں کو اس مستقبل کی قیادت کے لیے تیار کر رہے ہیں؟وہ قوم جو اپنی بیٹیوں کو تعلیم دیتی ہے کبھی نہیں ہارتی۔تاریخ ہمیں ایک واضح سبق دیتی ہے،کوئی قوم کبھی اپنی خواتین کو نظرانداز کر کے ترقی نہیں کر سکی۔اور کوئی قوم اپنی خواتین کو بااختیار بنا کر کبھی زوال کا شکار نہیں ہوئی۔جب ایک مرد تعلیم حاصل کرتا ہے تو ایک فرد تعلیم یافتہ ہوتا ہے۔جب ایک عورت تعلیم حاصل کرتی ہے تو پوری نسل تعلیم یافتہ ہو جاتی ہے۔آپ صرف طالبات نہیں ہیں،آپ مستقبل کی مائیں، اساتذہ، سائنس دان، ڈاکٹر، کاروباری خواتین، پالیسی ساز، فنکار، سفارت کار اور قائدین ہیں۔2047 میں، جب پاکستان آزادی کے سو سال مکمل کرے گا،پاکستان کا معیار اور وقار اس بات پر منحصر ہوگا کہ آپ آج اپنی تعلیم کو کتنی سنجیدگی سے لیتی ہیں۔یہ کبھی مت سوچنا کہ چونکہ آپ ایک چھوٹے شہر سے تعلق رکھتی ہیں اس لیے آپ کے خواب بھی چھوٹے ہونے چاہئیں۔عظمت کے لیے کبھی بڑے شہر ضروری نہیں رہے،عظمت کے لیے ہمیشہ بڑا سوچنا ضروری رہا ہے۔اگر نارووال کے ایک کسان کی بیٹی ڈاکٹر بن سکتی ہے،اگر ایک دیہاتی لڑکی انجینئر بن سکتی ہے،اگر ایک چھوٹے شہر کی طالبہ عالمی سطح کی محقق بن سکتی ہے تو پھر جغرافیہ غیر اہم ہو جاتا ہے۔اہم یہ نہیں کہ آپ کہاں سے آغاز کرتی ہیں،اہم یہ ہے کہ آپ کتنا بلند ہدف رکھتی ہیں اور اس کے لئے کتنی محنت کرتی ہیں۔ہر بڑی پیشرفت ایک سادہ مگر طاقتور سوال سے شروع ہوتی ہے۔پروگرام میں فیملیز، خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔پروگرام میں بچوں اور فیملیز کیلئے مختلف تفریحی و تعلیمی سرگرمیاں منعقد کی گئیں جن میں میوزیکل چیئر، کوئز مقابلے، پینٹنگ مقابلے اور صحت مند بچوں کے مقابلے شامل تھے۔بچوں کی جانب سے خصوصی پرفارمنس ٹیبلو پیش کیے گئے جبکہ علاقائی ثقافت کو فروغ دینے کیلئے ثقافتی سرگرمیاں بھی پیش کی گئیں۔ فیملیز کی تفریح و دلچسپی کے لیے مختلف پروگرام کا بھی خصوصی انتظام کیا گیا۔اختتام پر وفاقی وزیرمنصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے میلے میں حصہ لینے والی طالبات میں انعامات بھی تقسیم کیے۔

