مرکزی کمیٹی کا کراچی میں بدترین گورننس پر اظہارِ تشویش، ترقی و انفراسٹرکچر بہتر بنانے کا مطالبہ

کراچی (ایم پی پی میڈیا سیل / اسٹاف رپورٹر) میری پہچان پاکستان (ایم پی پی) کی مرکزی کمیٹی نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ لاہور کی طرح کراچی کو بھی ترقی یافتہ بہترین انفرا اسٹرکچر اور بین الاقومی شہر بنائیں۔2009میں شہر ملک کا سب سے بہتر اور ترقی یافتہ شہر تھا لیکن آج یہ ملک کا دیہاتوں سے بھی بدتر شہر ہے۔ گورننس برائے نام ہے۔ دعووں میں پہلے نمبر پر عملی کام میں مائنس نظر آتا ہے۔ شہر میں آتش زدگی کے واقعات اور حادثات سالوں سے ہو رہے ہیں لیکن فائر سیفٹی کے لئے عمل درآمد ندارد نظر آتا ہے۔ مئیر کراچی کی کہانیاں سن سن کر عوام کے کان پک چکے ہیں۔کراچی کو مائی کراچی کہا تو جاتا ہے لیکن اسکی ترقی کاوقت آئے تو فنڈز وہائے کراچی کہ کر کہیں اور خرچ کردیئے جاتے ہیں۔ وزیر اعلی سندھ اگر کراچی سے مخلص ہیں تو کے ایم سی کے فنڈز کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرائیں۔ 25ارب سے 106سڑکیں کیا چاند پر بن رہی ہیں؟ اسکے بعد اعلان کردہ 89ارب کہاں خرچ ہوئے؟ پانی کی لائنیں کراچی میں ہر دوسرے دن کون توڑ رہا ہے؟ ٹینکرز مافیا کی سرپرستی کون کر رہا ہے؟ بلدیہ کراچی اور ٹاؤنز کرپشن کا گڑھ ہیں۔ جعلی بھرتیاں کرکے میرٹ کا قتل عام ہو رہا ہے۔ زمینیں علیحدگی پسندوں کو دینے کے انکشافات اور اس میں ملوث افراد بس ٹرمینل کی زمینیں،سپر چائنا کٹنگ اس دور میں اتنی ہوئی ہے کہ حساس ادارے بھی محفوظ نہیں رہے۔ نیب زدہ جیلوں سے ضمانتوں پر آئے افسران کو اعلی عہدوں پر لگا کر مئیر کراچی ترقی تو نہیں تنزلی اور کرپشن کو ہوا دے رہے ہیں۔ او پی ایس افسران کرپشن کو بڑھاوا دینے کے لئے لگائے گئے ہیں۔ کرپشن اتنی ہورہی ہے کہ ہر محنت کش زیور بیچ کر ترقی کے لئے افسران کو رشوت دے رہا ہے۔ مئیر کراچی نے آج تک کرپٹ اصل افسران جو آج بھی سسٹم چلا رہے ہیں کوئی کاروائی نہیں کی۔ بلدیہ کراچی کا پے رول وسیم اختر کا چارج چھوڑتے وقت کیا تھا اب اس میں ہزاروں افراد جعلی بھرتی سے ایڈ اون کئے جا چکے ہیں۔ کراچی کی ترقی جعلی بلنگ کی نظر ہے۔ نیب انکوائری کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہم کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ ہیں وہ دباؤ میں نہ آئیں۔ جعلی آکشن، جعلی ٹھیکے ہی کراچی کی تباہی کی وجہ ہیں۔ یہ معاشی دہشت گردی ہے منی پاکستان سے غداری ہے۔ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری جلد مک مل کرکے مئیر سمیت دیگرداروں کا کردار سامنے آنا چاہئے جس سے کمشنر کراچی بھی بالاتر نہیں۔ آر جے شاپنگ مال حادثے کے بعد مئیر اور کمشنر پر مشتمل کمیٹی نے فائر فائٹنگ سے متعلق رپورٹ پیش کی تھی۔ سندھ حکومت نے کیا ایکشن لیا بیڈ گورننس نے کراچی کے شہریوں کے لئے مقتل گاہیں بنا دی ہیں۔ مرکزی کمیٹی نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ جنگی بنیادوں پرا قدامات کرائیں۔ کراچی میں ترقی کی مانیٹرنگ وفاقی ادارے کریں اور وفاق بھی فنڈز جاری کرے ورنہ معاشی دہشت گردی میں وفاق بھی ذمہ دار کہلائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں