کوئٹہ(این این آئی)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کے اہم اجلاس میں شرکت نہ صرف سفارتی بلکہ تزویراتی اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے ایسے اعلیٰ سطحی فورم میں پاکستان کی نمائندگی اس امر کی غماز ہے کہ ملک خطے اور عالمی برادری میں امن، استحکام اور مکالمے کے فروغ کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرنا چاہتا ہے موجودہ عالمی تناظر میں، جہاں مشرقِ وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک کشیدگی اور تنازعات کی کیفیت پائی جاتی ہے، پاکستان کا فعال اور تعمیری مؤقف عالمی توجہ حاصل کر رہا ہے بورڈ آف پیس جیسے پلیٹ فارم عموماً تنازعات کے حل، اعتماد سازی کے اقدامات، انسدادِ دہشت گردی، پائیدار ترقی اور علاقائی تعاون جیسے امور پر مشترکہ حکمتِ عملی تشکیل دینے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمدعبدالقادر نے کہا کہ بورڈ آف کے غیر معمولی اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے داخلی امن و استحکام کو مستحکم بنانے کا خواہاں ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی شراکت دار بننا چاہتا ہے۔ یہ اجلاس پاکستان کے لیے اپنی سفارتی ترجیحات واضح کرنے، کشمیر سمیت دیگر علاقائی تنازعات پر اپنا مؤقف پیش کرنے اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کا مؤثر موقع فراہم کر سکتا ہے۔ متوقع نتائج کے طور پر دوطرفہ ملاقاتوں میں سرمایہ کاری، تجارتی روابط اور سکیورٹی تعاون سے متعلق پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔ انسدادِ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق رائے پیدا ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔ اگر یہ اجلاس ٹھوس فیصلوں اور عملی اقدامات پر منتج ہوتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستان کی عالمی ساکھ کو مضبوط کرے گا بلکہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کی جانب ایک مثبت پیش رفت بھی ثابت ہوگا۔

