کوئٹہ(رپورٹر) نیشنل پارٹی بلوچستان کے صدر اسلم بلوچ نے کہا ہے کہ ضلع مستونگ کے معدنی علاقے ڈیگاری، زڑخو، سنجدی ،مارواڑ اور افغانستان سے منسلک سرحدی علاقہ پنجپائی اور سرلٹھ کو ضلع مستونگ سے کاٹ ضلع کوئٹہ میں شامل کی گئی جو مستونگ کے عوام کے ساتھ ایک سیاسی منافقت اور دھوکہ تھا بعد ازاں مستونگ پولیس کو قلات رینج سے نکال کر کوئٹہ رینج میں شامل کی گئی اب ضلع مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرکے ڈویژنل سطع کے اسامیوں سمیت فنی تعلیمی اداروں میں بھی ڈویژنل سطع کے نشستوں سے محروم کرنے کی سازش کی جارہی ہے جو قابل قبول نہیں ہے اگر حکومت کو نئے ڈویژن بنانے ہیں تو مستونگ قلات اور نوشکی پر مشتمل ڈیژن بناکر اس کا ڈویژنل ہیڈ کوارٹر مستونگ کو بنایا جائے جو تینوں اضلاع کے سنگم میں واقع ہے ، اسلم بلوچ نے واضع کیا ہے کہ ضلع مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرکے اس کی سیاسی اور تاریخی حیثیت کو گم کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جاہیگی علاقہ کے تمام سیاسی جماعتوں سے مل کر احتجاج کا فیصلہ کیا جاہیگا ۔

