تربت(رپورٹر) نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی نائب صدر انجنیئر حمید بلوچ نے شہید ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی برسی کے موقع پر اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک عہد ساز فکر اور جمہوری مزاحمت کی علامت تھے۔ ان کی سیاسی زندگی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اصولی سیاست وقتی دباؤ اور مشکلات کے باوجود اپنی معنویت برقرار رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہید ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے بلوچ قومی سیاست کو جذباتی نعروں سے نکال کر فکری اور آئینی بنیادوں پر استوار کیا۔ ان کا مؤقف واضح، دوٹوک اور دلیل پر مبنی ہوتا تھا۔ وہ نوجوانوں کو صرف احتجاج نہیں بلکہ مطالعہ، تنظیم سازی اور سیاسی تربیت کی طرف مائل کرتے تھے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے طلبہ اور قومی سیاست میں رہنمائی کی اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور بعد میں نیشنل پارٹی کو ایک منظم نظریاتی پلیٹ فارم کی شکل دی، جس نے بعد ازاں قومی سیاست میں باصلاحیت قیادت پیدا کی۔
انجنیئر حمید بلوچ نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی سب سے بڑی خوبی ان کی سیاسی بردباری اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی صلاحیت تھی۔ وہ مکالمے پر یقین رکھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ قومی مسائل کا حل جمہوری جدوجہد اور آئینی راستوں سے ہی ممکن ہے۔ ان کی سیاست میں ذاتی مفاد یا وقتی مصلحت کا کوئی عمل دخل نہیں تھا بلکہ اجتماعی مفاد اور قومی وقار کو ہمیشہ مقدم رکھا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج کے سیاسی ماحول میں شہید ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی فکر اور طرزِ سیاست کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ نئی نسل کو چاہیے کہ وہ ان کی تحریروں، تقاریر اور عملی جدوجہد کا سنجیدگی سے مطالعہ کرے تاکہ سیاست کو دوبارہ سنجیدگی، شائستگی اور نظریاتی وابستگی سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
انجنیئر حمید بلوچ نے مزید کہا کہ شہید ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی برسی ہمیں اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتی ہے کہ جمہوری اقدار، آئینی بالادستی اور قومی حقوق کے لیے جدوجہد کو منظم اور مؤثر انداز میں جاری رکھا جائے گا، اور ان کے روشن سیاسی ورثے کو آئندہ نسلوں تک منتقل کیا جائے گا۔

